پاک سعودی دفاعی معاہدے کے حق میں پنجاب اسمبلی سے متفقہ قرار داد منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں 17 جون 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو سراہا گیا اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی تجدید اور خطے میں قیام امن کی ضمانت ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
قرار داد حکومت کے رُکن شگفتہ فیصل نے ایوان میں پیش کی۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس تاریخی معاہدے کے تحت پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو ایک باعث سعادت امر ہے۔
قرار داد میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ پاکستان 40 سے زائد اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی طاقت ہے اور حال ہی میں ملک نے دشمن کو سخت نقصان پہنچا کر عالمی سطح پر اپنی طاقت کا ثبوت دیا ہے۔
قرارداد میں اس اعزاز کو وزیر اعظم شہباز شریف کے اس تاریخی فیصلے کی یاد دہانی قرار دیا گیا جسے قرار داد کے مطابق انہوں نے اندرونی و بیرونی دباؤ کے باوجود انجام دیا اور اسی فیصلے نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر امت مسلمہ کے دفاع کو مضبوط کیا۔
مزید پڑھیے: سعودی پاک دفاعی معاہدہ اسٹریٹیجک، معیشت اور خوشحالی کا احاطہ کرتا ہے، سیکیورٹی حکام
اسی کے ساتھ ایوان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی شب و روز مصروفیت اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی نیک نیتی و عسکری حکمت عملی کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی یہ ذمہ داری اخلاص و ایمان کے ساتھ نبھائے گا اور اسلام و عالم اسلام کے خلاف ترتیب دی جانے والی ہر سازش کو ناکام بنائے گا۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی تعلقات اور تاریخی پس منظر
پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور شدہ یہ قرارداد متعلقہ وفاقی اور عسکری حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ صوبائی تائید اور یکجہتی کا باقاعدہ اظہار ریکارڈ میں رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ پنجاب اسمبلی پنجاب اسمبلی قرارد پاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک سعودی دفاعی معاہدہ پنجاب اسمبلی پنجاب اسمبلی قرارد پاس پنجاب اسمبلی پاک سعودی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔