نہ فارم 47 پر مذاکرات ہوں گے نہ اسٹیبلشمنٹ سے: عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ نہ فارم 47 کی حکومت سے مذاکرات ہوں گے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کی بات چیت کی جائے گی، البتہ اگر کوئی رابطہ ہوا تو وہ اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہوگا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی ائی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو تمام تازہ ترین سیاسی صورتِ حال سے آگاہ کردیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر بننے والی حکومت سے مذاکرات بے معنی ہیں، کیونکہ جب خود وزیراعظم اہم فیصلوں کے لیے اجازت کے منتظر ہوں تو ایسے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات کی گئی، پارٹی پر دباؤ اور مظالم میں اضافہ ہوا ،موجودہ دور میں جتنا ظلم ہوا، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، تمام امور پر گفتگو صرف محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی کینسر کی مریضہ کو جیل میں رکھا گیا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو کارکن یا رہنما پارٹی کے ساتھ ڈٹا رہا، اس پر انتقامی کارروائی کی گئی، لہٰذا اب نہ فارم 47 حکومت سے بات ہوگی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ کیا جائے گا۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ “آزادی یا موت” کے عزم پر قائم ہیں اور غلامی کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور سلمان اکرم راجا پارٹی کے قانونی اور سیاسی پیغامات کے واحد مجاز ترجمان ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ سے بانی پی ٹی فارم 47 کہا کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔