وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر بھارتی فورسز کی چھاپہ مار کارروائیاں، 500 سے زائد افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ، سوپور، کولگام، ہندواڑہ اور دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جن میں 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ نام نہاد دہشت گردی کے ماحول کو ختم کرنے کی کارروائی ہے جبکہ مقامی لوگ اسے من مانی گرفتاریاں اور ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ، سوپور، کولگام، ہندواڑہ اور دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ اس مہم میں ان شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں تحریک آزادی کے اوور گرانڈ ورکرز (OGWs)، ہمدرد اور پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مقیم کشمیریوں کے رشتہ دارب تایا جاتا ہے۔ بھارتی پولیس نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے پر کنٹرول کو مضبوط کرنا ہے۔ حکام نے تصدیق کی کہ سینکڑوں لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے بہت سے لوگوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ڈیجیٹل آلات اور دستاویزات کو ضبط کیا گیا جبکہ آزادی کے پسند رہنمائوں اور کارکنوں کے متعدد رشتہ داروں اور ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا۔ جموں خطے سے بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں نے چھاپہ مار کارروائیوں کو علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے اور خوف ودہشت پھیلانے کی بھارت کی جابرانہ پالیسی کا تسلسل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشنزجو اکثر مبہم انٹیلی جنس معلومات پر کیے جاتے ہیں، معمولات زندگی کو مفلوج، بنیادی حقوق کو پامال اور کشمیریوں میں احساس عدم تحفظ کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار
پڑھیں:
بھارت جموں و کشمیر کے تئیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے، محبوبہ مفتی
سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے تئیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے مفاہمت کا عمل شروع کرے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ کشمیر میں حالات اب ٹھیک ہیں، لیکن زمینی صورت حال کچھ اور بتاتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میرے خیال میں بھارتی وزیراعظم، وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کے مشیر کو جموں و کشمیر کے تئیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں لوگوں کی شکایات کو دور کرنے کے لیے مفاہمت کی ضرورت ہے۔یہاں کے لوگ عزت اور وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لوگ چاہتے ہیں کہ بھارتی این آئی اے اور دیگر ایجنسیاں انہیں تنگ نہ کریں اور ان پر ”یو اے پی اے اور پی ایس اے” جیسے کالے قوانین لاگو نہ ہوں۔