گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ، سوپور، کولگام، ہندواڑہ اور دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جن میں 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ نام نہاد دہشت گردی کے ماحول کو ختم کرنے کی کارروائی ہے جبکہ مقامی لوگ اسے من مانی گرفتاریاں اور ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ، سوپور، کولگام، ہندواڑہ اور دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ اس مہم میں ان شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں تحریک آزادی کے اوور گرانڈ ورکرز (OGWs)، ہمدرد اور پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مقیم کشمیریوں کے رشتہ دارب تایا جاتا ہے۔ بھارتی پولیس نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے پر کنٹرول کو مضبوط کرنا ہے۔ حکام نے تصدیق کی کہ سینکڑوں لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے بہت سے لوگوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ڈیجیٹل آلات اور دستاویزات کو ضبط کیا گیا جبکہ آزادی کے پسند رہنمائوں اور کارکنوں کے متعدد رشتہ داروں اور ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا۔ جموں خطے سے بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں نے چھاپہ مار کارروائیوں کو علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے اور خوف ودہشت پھیلانے کی بھارت کی جابرانہ پالیسی کا تسلسل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشنزجو اکثر مبہم انٹیلی جنس معلومات پر کیے جاتے ہیں، معمولات زندگی کو مفلوج، بنیادی حقوق کو پامال اور کشمیریوں میں احساس عدم تحفظ کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود