گوگل کروم نے یوزرز کیلئے انتہائی مفید فیچر شامل کردیا، براؤزنگ مزید آسان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل کروم کے آٹو فل فیچر کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے جس کے بعد صارفین پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کی لائسنس پلیٹ جیسے حساس ڈیٹا کو بھی صرف ایک کلک میں فارم میں درج کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچر بائی ڈیفالٹ بند ہوگا اور صارف کو خود اسے آن کرنا ہوگا۔
کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے صارفین روزمرہ کی انٹرنیٹ سرگرمیوں میں آٹو فل کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہی فیچر فارم بھرنے کے دوران صارفین کو وقت بچانے میں مدد دیتا ہے کیونکہ انہیں نام، پتے، یوزر نیم یا پاس ورڈ بار بار ٹائپ نہیں کرنا پڑتا۔ اب گوگل کروم نے اس فیچر کو ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے اسے enhanced آٹو فل کے نام سے اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق نئے ورژن میں صارف پاسپورٹ نمبر، ڈرائیونگ لائسنس، گاڑی کی لائسنس پلیٹ سمیت ایسی معلومات بھی محفوظ کر سکے گا جو عام طور پر سرکاری دستاویزات میں استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم یہ فیچر خودکار طور پر فعال نہیں ہوگا بلکہ کروم سیٹنگز میں جا کر “Autofill and Passwords” کے اندر enhanced آٹو فل کو ہینڈ سے آن کرنا ہوگا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اب کروم پیچیدہ فارمز اور مختلف فارمیٹس کو بھی زیادہ بہتر طریقے سے پہچان سکے گا۔
گوگل نے واضح کیا ہے کہ یہ فیچر تمام زبانوں میں دستیاب ہوگا اور آنے والے مہینوں میں مزید ڈیٹا کیٹیگریز بھی شامل کی جائیں گی۔ کروم دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ویب براؤزر ہے جس کا مارکیٹ شیئر تقریباً 73 فیصد ہے اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی مسلسل نئے فیچرز شامل کرتی رہتی ہے تاکہ صارفین کو براؤزر بدلنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ٹو فل
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔