27 ویں ترمیم: ججز کے تبادلے کی ترمیم میں تبدیلی پر غور، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر معاملات طے نہ پاسکے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
27ویں آئینی ترمیم آج سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں کچھ شقوں میں ترامیم کی گنجائش موجود ہے۔
پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سے منظوری کے بعد یہ ترمیمی مسودہ آج سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وہ ججز جن کے تبادلے کیے جا چکے ہیں مگر وہ روانہ ہونے سے گریزاں ہیں، انہیں فوری طور پر ریٹائر نہیں کیا جائے گا، اور تبادلے پر اعتراض کرنے والے ججز کے کیسز سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی بھیجے جائیں گے۔
اسی طرح ریٹائرڈ صدر کی سیاسی زندگی میں واپسی کے حوالے سے بھی بحث ہوئی کہ آیا انہیں صدارتی استثنیٰ حاصل رہے گا یا یہ ختم کر دیا جائے گا۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
مجوزہ مسودے میں سپریم کورٹ اور فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے نام کے ساتھ لفظ ‘آف پاکستان’ شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بلدیاتی اداروں سے متعلق ترامیم شامل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔