اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تعیناتی ، 10 نومبر تک ہو جائے گی، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 10 نومبر (پیر) تک اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تعیناتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی، پی ٹی آئی وفد میں سابق اسپیکر اسد قیصر اور اپوزیشن کے دیگر اراکینِ اسمبلی شریک تھے، ملاقات میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس دوران پی ٹی آئی وفد نے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔
بیرسٹر گوہر خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسپیکر کو کہا کہ قوانین کے مطابق ریکوزیشن جمع کر چکے ہیں، لیڈر آف اپوزیشن ان افراد کا حق ہے جو اپوزیشن بینچز پر بیٹھتے ہیں، عددی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے 74 ارکان کے دستخط کے بعد ہمارا اپوزیشن لیڈر ہونا چاہیے۔
جس پر اسپیکر نے ہمیں کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ عدالت میں تھا، اسپیکر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس آیا ہوا تھا، جوں ہی سپریم کورٹ سے کاپی ہمیں موصول ہوتی ہے تو اس پر مزید پیشرفت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کریں گےکہ سپریم کورٹ سے کاپی لے کر اسپیکر آفس میں پہنچائیں، ہم نے کہا ہے کہ پیر تک اسپیکر آفس میں سپریم کورٹ سے کاپی لا کر جمع کروائی جائے، پیر (10 نومبر) تک اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو جائےگا۔
اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ معاملہ فی الحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے، عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس پر مزید غور کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہاکہ ملکی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کا باہمی مشاورت سے آگے بڑھنا ناگزیر ہے۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوں، اراکینِ اسمبلی قومی مفاد میں قانون سازی کے عمل کو مؤثر اور مثبت انداز میں آگے بڑھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سپریم کورٹ پی ٹی ا ئی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔