لاہور ہائی کورٹ میں جدید ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم نافذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں انقلابی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایات پر لاہور ہائی کورٹ میں جدید ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم نافذ کردیا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کو بین الاقوامی معیار اور جدید تکنیکی بنیادوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جارہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں ایک جامع اور موثر اصلاحاتی نظام نافذ کیا گیا ہے۔ عدالت کے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کی اہمیت کے پیش نظر دو ایڈیشنل رجسٹرارز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کی حفاظت، معیاری درجہ بندی، باقاعدہ نگہداشت اور شفاف و محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ نئے نظام کے تحت ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم،کمپیوٹرائزڈ موومنٹ انڈیکس اور کاپی پٹیشن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں کاپی برانچ کی کارکردگی بہتر بنا کر وکلا اور سائلین کو بروقت مصدقہ نقول کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔ فعال اور پرانی فائلوں کی اسکیننگ اور ڈیجیٹل طور پر محفوظ بنانے کا عمل بھی جاری ہے۔
علاوہ ازیں ریکارڈ رومز کی تنظیم نو، فائلوں کی درجہ بندی، فائل لیبلنگ سسٹم اور ماحول کی بہتری کے لیے انتظامی اصلاحات بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم لاہور ہائی کورٹ گیا ہے
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔