Jang News:
2026-07-24@07:18:21 GMT

27 ویں ترمیم: ججز کے تبادلے کی ترمیم میں تبدیلی پر غور

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

27 ویں ترمیم: ججز کے تبادلے کی ترمیم میں تبدیلی پر غور

—فائل فوٹو

27ویں آئینی ترمیم آج سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس کی کچھ شقوں میں ترامیم کی جا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترامیم آج سینیٹ میں پیش کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ہوسکتی ہے کہ وہ ججز جن کا تبادلہ ہو گیا لیکن وہ جانے سے گریزاں ہیں، انہیں فوری طور پر ریٹائر تصور نہیں کیا جائے گا، تبادلے پر معترض ججز کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ ریٹائرڈ صدر کی سیاسی زندگی میں واپسی پر صدارتی استثنیٰ برقرار رکھنے یا نہ رکھنے پر بھی رات گئے غور کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر تعیناتی سے متعلق معاملات بھی طے نہ پا سکے۔ 

ستائیسویں آئینی ترمیم سینیٹ اجلاس کیلئے 45 نکاتی ایجنڈا جاری

اسلام آباد ستائیسویں آئینی ترمیم سینٹ سے آج ہی.

..

مسودے میں سپریم کورٹ اور فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے آگے ’آف پاکستان‘ کا لفظ لکھا جائے، ایم کیو ایم کی بلدیاتی اداروں سے متعلق ترمیم شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 

ابھی تک طے نہیں ہو سکا کہ قانون و انصاف کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہوگا یا نہیں۔ زیر غور تجاویز اجلاس میں اس وقت لائے جانے پر غور ہے جب ترمیم کا مسودہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن