WE News:
2026-07-24@04:14:14 GMT

سینیٹ کا اجلاس آج، 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

سینیٹ کا اجلاس آج، 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا

پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ کا اجلاس آج صبح 11 بج کر 30 منٹ پر منعقد ہوگا۔

جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، جو حکمران مسلم لیگ (ن) کے اہم اتحادی ہیں، 27ویں آئینی ترمیم پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ ایوانِ بالا میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کریں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ سینیٹ پیر کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دے گا، جس کے بعد یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

مزید برآں، انوشہ رحمان پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کریں گی، جبکہ اسلام آباد میں میٹرو بس منصوبے کی تعمیر سے متعلق بل سینیٹر سرمد علی پیش کریں گے۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ پاکستان سائیکالوجیکل کونسل کے قیام سے متعلق بل پیش کریں گے۔

سینیٹر محمد عبدالقادر پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کریں گے، جبکہ سینیٹر شیری رحمان کتابوں پر پلاسٹک کور کے استعمال پر پابندی سے متعلق بل پیش کریں گی۔

اسی اجلاس میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے گزشتہ روز 27ویں آئینی ترمیم پر غور کے لیے مشترکہ اجلاس منعقد کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر بات چیت ہوئی، تاہم اس معاملے پر مزید مشاورت کے لیے وقت مانگا گیا۔

اسی طرح بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنے کی تجویز پر بھی مشاورت مؤخر کر دی گئی، اور حکومت نے کل تک اپنی حتمی پوزیشن دینے کی درخواست کی۔

ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی دیگر تمام شقوں پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور بات چیت آخری مراحل میں ہے۔

دوسری جانب، اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنماؤں نے 27ویں آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین پر حملہ اور عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے لائی جا رہی ہے۔

’جس دن یہ ترمیم منظور ہوئی، وہ 1973 کے آئین کے تدفین کا دن ہوگا۔‘

انہوں نے اس ترمیم کو ’شخصی قانون سازی‘ قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ’یومِ سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا اور عوام، میڈیا، تاجروں، کسانوں اور وکلا سے اپیل کی کہ وہ اس مجوزہ قانون کے خلاف متحد ہوں۔

علامہ راجا ناصر عباس نے مخصوص عہدوں اور رینکس کو استثنیٰ دینے کی تجویز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں ترمیم ایسے افراد کو قانون سے بالاتر کر دے گی جو قتل، ظلم یا کرپشن جیسے جرائم کے باوجود احتساب سے بچ جائیں گے۔

’جب طاقت بے لگام ہو جاتی ہے تو وہ آمریت میں بدل جاتی ہے، جو اختلاف کی ہر آواز، حتیٰ کہ ایک بچے کی آواز بھی، دبانے لگتی ہے۔‘

’1973 کا آئین اسی دن مر جائے گا جس دن یہ ترمیم منظور کی گئی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس قائمہ کمیٹی قانون و انصاف مصطفیٰ نواز کھوکھر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس قائمہ کمیٹی قانون و انصاف مصطفی نواز کھوکھر 27ویں آئینی ترمیم ترمیم کا بل پیش بل پیش کریں پیش کریں گے اجلاس میں کے مطابق جائے گا کے لیے پیش کی

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن