اسلام آباد (نیوزڈیسک) پارلیمان کی قانون و انصاف کمیٹیوں کا 27 ویں آئینی ترمیم پر مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں حکومتی اتحاد نے مزید 3 ترامیم پیش کر دی ہیں جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام کی شق منظور کر لی گئی۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک کر رہے ہیں، دوپہر کے وقفہ کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر وزیر قانون نے وزیراعظم کے فوجداری استثنیٰ والی ترمیم واپس لے لی، یہ کمیٹی مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کی شقوں کا جائزہ لینے کے بعد شق وار منظوری دے گی۔

اجلاس میں سینیٹر طاہر خلیل سندھو، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو، علی حیدر گیلانی، سائرہ افضل تارڑ، بلال اظہر کیانی، سید نوید قمر اور ابرار شاہ کمیٹی اجلاس میں شریک ہیں، اس کے علاوہ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف راجا نعیم اکبر اور دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تین مزید ترامیم پیش کی گئیں جبکہ اے این پی، بی این پی اور ایم کیو ایم نے اپنی ترامیم بھی پیش کر دیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی منظوری دیدی، زیر التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کرایک سال کرنے کی ترمیم منظور کی گئی، ایک سال تک مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کا نام تبدیل، بلوچستان میں نشستیں بڑھانے کی تجویز

ذرائع نے بتایا کہ اے این پی نے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم کمیٹی میں پیش کی جس کے مطابق خیبرپختونخوا سے نام خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھا جائے، اے این پی نے مؤقف اپنایا کہ خیبر ضلع ہے، دیگر صوبوں میں نام کے ساتھ ضلع کا نام نہیں لکھا جاتا۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ سے متعلق ترمیم پر اتفاق کیا گیا، آرٹیکل 243اور آرٹیکل 200 سے متعلق مشاورت جاری ہے، بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم کے اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے صبح مجھے اور اٹارنی جنرل کو بلایا تھا، وزیراعظم نے کہا تھا وہ استثنی نہیں چاہتے ، جن دیگر عہدوں کو استثنیٰ دیا جا رہا ہے ان کا کام ایگزیکٹو نوعیت کا نہیں، وزیراعظم کا کام ایگزیکٹو نوعیت کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں کی تجاویز پر وفقہ کے بعد غور ہوگا، امید ہے آج شام تک کمیٹی اپنا کام مکمل کر لے گی، جے یو آئی کے اراکین کل کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے تھے اور کمیٹی کو پارٹی پالیسی سے آگاہ کیا تھا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے خیال میں پارلیمانی جماعتوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہئے۔

 

سینیٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ جن تجاویز پر کل بحث نہیں ہوئی ان پر آج غورہوگا، ججز کی ٹرانسفر، آرٹیکل 243جوجوائنٹ کمانڈپر ہے اورکچھ شقوں پر میٹنگ ہوگی، تمام شقوں پر رائے لی جائے گی اورپھر کچھ فائنل ہوگا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پوری امید ہے آج اس بحث کو ہم مکمل کرلیں گے، ہر جماعت کو اپنی تجاویزدینے کا پورا حق ہے، ارکان کی اکثریت کیا فیصلہ کرتی ہے آج پتہ چل جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن کی تمام تجاویز کودیکھا جائے گا پھر فیصلہ ہوگا، اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوگا پھر یہ ہاؤس میں بھیجا جائے گا، کوشش ہوگی ہم اس کو شام 5بجے تک مکمل کرلیں۔

سینیٹ کا اجلاس آج دوپہر 3 بجے طلب کر لیا گیا ہے، جس کا ایک نکاتی ایجنڈا 27ویں ترمیم بل پر غور کرنا ہے۔

تحریکِ انصاف کے پارلیمانی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی عدم موجودگی میں اس بل پر بحث کرنا نامناسب ہے، انہوں نے حکومت اور اس کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ ترمیمات کو جلد بازی میں منظور کرانے کے درپے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر ضرب لگاتی ہیں، عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں، اور 1973 کے آئین کے ذریعے بڑی احتیاط سے قائم کیے گئے اختیارات کے نازک توازن کو مجروح کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن