کراچی ، شہریوں کیلئے معافی مانگنے پر پہلاای چالان منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
14دن میں ادائیگی کی صورت میں چالان کا جرمانہ آدھا کرنے کا فیصلہ
نئے ٹریفک قوانین کی 50 خلاف ورزیوں کا جرمانہ 5 ہزار روپے تک ہے
صرف 9 خلاف ورزیوں پر چالان ہورہا ہے، ڈی آئی جی ٹریفک کی بریفنگ
کراچی کے شہریوں کیلئے معافی مانگنے پر پہلا ای چالان منسوخ جبکہ 14 دن میں ادائیگی کی صورت میں چالان کی رقم پچاس فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت فیس لیس ای ٹکٹنک سسٹم اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے متعلق دوسرا جائزہ اجلاس سینٹرل پولیس آفس میں منعقد ہوا۔جس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی ، ویلفیٔرز ، ٹریننگ ، ڈی جیز ، سیف سٹی ، ڈی آئی جیز ہیڈ کواٹرز، سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول ، اسٹیبلشمنٹ ، ڈی ایل برانچ ، ٹریفک کراچی ، آئی ٹی ، فنانس ، اے آئی جیز نے بالمشافہ جبکہ ڈویژنل ڈی آئی جیز اور ضلعی ایس ایس پیز نے ذریعہ وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ضلعی ٹریفک افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نئے ٹریفک قوانین و جرمانوں کا نفاذ صوبے بھر میں یکساں ہے ، صوبائی سطح پر بغیر نمبر پلیٹ چلنے والی گاڑیوں سمیت ٹریفک کی دیگر خلاف ورزیوں پر نئے قوانین کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ نئے ٹریفک قوانین کی 50 خلاف ورزیوں کا جرمانہ 5 ہزار روپے تک ہے جبکہ جرمانے کی 14 یوم کے اندر ادائیگی کی صورت میں 50 فیصد تک رعایت دی گئی ہے جبکہ 50 خلاف ورزیوں کا رعایتی جرمانہ دو سے ڈھائی ہزار روپے تک ہے۔انھوں نے کہا کہ آگاہی اور تنبیہہ کے باوجود جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں جرمانہ بالترتیب بڑھتا جائے گا جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے متعلق شعور بیداری اور آگاہی مہم تیز کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک شکایات سے متعلق ہر ضلع میں سہولت سینٹرز قائم کیے جائیں۔اس موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت 59 خلاف ورزیوں کو مانیٹر اور جرمانہ کیا جارہا ہے، صرف 9 انتہائی مہلک و سنگین خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سے زائد جرمانہ مختص ہے جبکہ ون وے ، کم عمر بچوں کا ڈرائیونگ کرنا ، ون ویلنگ ، ڈرفٹنگ ،لائٹس کے بغیر ، غیر رجسٹرڈ گاڑیاں ، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ، ٹریفک لائٹ سگنلز کی خلاف ورزی اور گاڑیوں کی غیر قانونی اوور ٹیکنگ سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر بھاری گاڑیوں کے جرمانے کو موٹرسائیکل و کار کے جرمانوں سے منسوب کیا جارہا ہے، صرف کراچی میں ٹریفک جرمانوں سے متعلق شکایات کے لیے 11 مقامات پر سہولت سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر ایس پی ، سی پی ایل سی نمائندہ اور ڈی ایس پی ٹریفک یا متعلقہ افسران شکایت کا ازالہ کریںگے جبکہ چالان میں دیٔے گئے جرمانہ سے متعلق شکایت کے ازالہ کا وقت جرمانہ کی مدت میں شمار نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ جرمانے کی اطلاع بذریعہ پاکستان پوسٹ، ایس ایم ایس سروس اور ایپلیکیشن سے کی جارہی ہے ، کراچی میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے روڈ سیفٹی اقدامات کا آغاز گزشتہ روز پیر سے شروع ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ادائیگی کی صورت میں ٹریفک قوانین خلاف ورزیوں ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔