نئے ٹریفک قوانین کی 50 خلاف ورزیوں کا جرمانہ 5 ہزار تک ہوگا، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ نئے ٹریفک قوانین و جرمانوں کا نفاذ صوبے بھر میں یکساں ہے، نئے ٹریفک قوانین کی 50 خلاف ورزیوں کا جرمانہ 5 ہزار روپے تک ہوگا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم و ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔
ای چالان کی قرارداد پر غلطی سے دستخط ہو گئے، کے ایم سی کی وضاحتکراچی میں ٹریفک جرمانوں ای چالان سے متعلق قرارداد پر کے ایم سی کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ نئے ٹریفک قوانین و جرمانوں کا نفاذ صوبے بھر میں یکساں ہے، نئے ٹریفک قوانین کی 50 خلاف ورزیوں کا جرمانہ 5 ہزار روپے تک ہوگا، مگر شہریوں کو 14 یوم میں ادائیگی کی صورت میں جرمانوں کی رقم میں 50 فیصد تک کی رعایت دی جائے گی۔
اجلاس میں آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر بغیر نمبر پلیٹ چلنے والی گاڑیوں سمیت ٹریفک کی دیگر خلاف ورزیوں پر نئے قوانین کے مطابق عمل درآمد سختی سے یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 50 خلاف ورزیوں کا رعایتی جرمانہ 2 سے ڈھائی ہزار روپے ہے، آگاہی، تنبیہہ کے باوجود جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں جرمانہ بالترتیب بڑھتا جائے گا۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ پہلے ای چالان ہونے پر 10 یوم میں رابطہ کرکے معافی کے ساتھ فیس معاف ہوسکتی ہے ۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 59 خلاف ورزیوں کو مانیٹر اور جرمانہ کیا جا رہا ہے، 9 انتہائی مہلک و سنگین خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سے زائد جرمانہ مختص ہے، ون وے، کم عمر بچوں کا ڈرائیونگ کرنا، ون ویلنگ، لائٹس کے بغیر، غیر رجسٹرڈ گاڑیاں، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، ٹریفک لائٹ سگنلز کی خلاف ورزی اور گاڑیوں کی غیر قانونی اوور ٹیکنگ سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہیوی گاڑیوں کے جرمانہ کو موٹر سائیکل و کار کے جرمانوں سے منسوب کیا جارہا ہے جو غلط ہے، صرف کراچی میں ٹریفک جرمانوں سے متعلق شکایات کیلئے 11 مقامات پر سہولت سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، ان میں ایس پی، سی پی ایل سی نمائندہ اور ڈی ایس پی ٹریفک یا متعلقہ افسران شکایت کا ازالہ کریں گے، جرمانہ کی اطلاع ذریعہ پاکستان پوسٹ، اور ایپلیکیشن کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نئے ٹریفک قوانین خلاف ورزیوں کا کا کہنا
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔