پنجاب میں قبل از وقت کھلنے والے تعلیمی اداروں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے موسمِ سرما کے پیشِ نظر اسکولوں کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت کوئی بھی سرکاری یا نجی اسکول صبح 8 بج کر 45 منٹ سے پہلے نہیں کھول سکے گا۔ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہدایات 3 نومبر 2025 سے 31 جنوری 2026 تک نافذالعمل رہیں گی۔ صوبائی حکومت کے ’ونٹر ایڈجسٹمنٹ پلان‘ کا مقصد شدید سرد موسم میں طلبا، والدین اور اساتذہ کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسکولوں میں قرآن اور اسلامیات کی تعلیم لازمی قرار دینے سے متعلق کیس میں فریقین کو نوٹسز جاری
نئے شیڈول کے مطابق، سنگل شفٹ اسکول پیر سے جمعرات تک صبح 8:45 سے دوپہر 1:30 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ جمعے کے روز کلاسز 12:30 بجے ختم ہوں گی۔ ڈبل شفٹ اسکولوں کے لیے صبح کی شفٹ کا دورانیہ بھی یہی رکھا گیا ہے، یعنی پیر سے جمعرات تک 8:45 سے 1:30 بجے تک اور جمعے کے روز 8:45 سے 12:30 بجے تک۔
دوپہر یا شام کی شفٹ پیر سے جمعرات تک 1:00 بجے سے 4:00 بجے تک، جبکہ جمعے کے روز 2:00 بجے سے 4:00 بجے تک جاری رہے گی۔
محکمہ تعلیم کے مطابق یہ فیصلہ بچوں کی صحت کے تحفظ اور سرد موسم میں تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول تعلیمی ادارے جرمانہ کالج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول تعلیمی ادارے کالج بجے تک
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔