برطانیہ کی چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ برطانیہ اپنے معاشی استحکام، ریگولیٹری صلاحیت اور عالمی معیار کی مہارت کے ساتھ خلیجی خطے کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرے گا۔

ریچل ریوز ان دنوں برطانیہ کی جانب سے ایک بڑے کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ہیں، جو گزشتہ چھ سالوں میں کسی بھی برطانوی چانسلر کا خلیج کا پہلا دورہ ہے۔

ان کا یہ دورہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے تاکہ برطانوی کاروباروں اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جاسکے۔

چانسلر ریوز ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (FII) جسے ’ڈیوس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں وہ سعودی شاہی خاندان کے سینئر ارکان، امریکی انتظامیہ کے نمائندوں اور عالمی کمپنیوں کے سی اِی اوز سے ملاقات کریں گی۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کی اولین ترجیح معاشی ترقی ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ خلیج جیسے اہم تجارتی و سرمایہ کاری مرکز میں برطانیہ کی مضبوط معاشی پیشکش کو پیش کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا، یورپی یونین اور بھارت کے ساتھ تاریخی معاہدوں کے بعد اب ہم اس رفتار کو مزید تیز کرتے ہوئے ایسے شراکتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں جو برطانیہ بھر میں اچھے روزگار، کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔

چانسلر ریوز فارنچن گلوبل فورم اور فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں تقاریر میں برطانیہ کو ایک مستحکم سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر اجاگر کریں گی۔

اس دورے کا ایک اہم مقصد خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ساتھ جاری تجارتی معاہدے میں پیشرفت کو تیز کرنا ہے، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تجارت میں 16 فیصد اضافہ، برطانوی مجموعی قومی پیداوار میں سالانہ 1.

6 ارب پاؤنڈ کا اضافہ اور برطانوی کارکنوں کی مجموعی اجرت میں سالانہ 600 ملین پاؤنڈ کا اضافہ متوقع ہے۔

چانسلر ریوز نے کہا کہ ایسے تجارتی معاہدے برطانیہ کے لیے نہایت اہم ہیں تاکہ وہ ماضی میں بریگزٹ، کفایت شعاری اور منی بجٹ جیسے عوامل سے ہونے والے معاشی نقصان کی تلافی کر سکے اور کاروبار کے فروغ کے ذریعے عوام کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری برطانیہ کی کے ساتھ

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی