برطانیہ خلیجی ممالک کے ساتھ ترقی کے لیے مزید آگے بڑھے گا، چانسلر ریچل ریوز
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
برطانیہ کی چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ برطانیہ اپنے معاشی استحکام، ریگولیٹری صلاحیت اور عالمی معیار کی مہارت کے ساتھ خلیجی خطے کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرے گا۔
ریچل ریوز ان دنوں برطانیہ کی جانب سے ایک بڑے کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ہیں، جو گزشتہ چھ سالوں میں کسی بھی برطانوی چانسلر کا خلیج کا پہلا دورہ ہے۔
ان کا یہ دورہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے تاکہ برطانوی کاروباروں اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جاسکے۔
چانسلر ریوز ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (FII) جسے ’ڈیوس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں وہ سعودی شاہی خاندان کے سینئر ارکان، امریکی انتظامیہ کے نمائندوں اور عالمی کمپنیوں کے سی اِی اوز سے ملاقات کریں گی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کی اولین ترجیح معاشی ترقی ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ خلیج جیسے اہم تجارتی و سرمایہ کاری مرکز میں برطانیہ کی مضبوط معاشی پیشکش کو پیش کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا، یورپی یونین اور بھارت کے ساتھ تاریخی معاہدوں کے بعد اب ہم اس رفتار کو مزید تیز کرتے ہوئے ایسے شراکتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں جو برطانیہ بھر میں اچھے روزگار، کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔
چانسلر ریوز فارنچن گلوبل فورم اور فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں تقاریر میں برطانیہ کو ایک مستحکم سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر اجاگر کریں گی۔
اس دورے کا ایک اہم مقصد خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ساتھ جاری تجارتی معاہدے میں پیشرفت کو تیز کرنا ہے، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تجارت میں 16 فیصد اضافہ، برطانوی مجموعی قومی پیداوار میں سالانہ 1.
چانسلر ریوز نے کہا کہ ایسے تجارتی معاہدے برطانیہ کے لیے نہایت اہم ہیں تاکہ وہ ماضی میں بریگزٹ، کفایت شعاری اور منی بجٹ جیسے عوامل سے ہونے والے معاشی نقصان کی تلافی کر سکے اور کاروبار کے فروغ کے ذریعے عوام کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری برطانیہ کی کے ساتھ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی