8 سال بعد پاک برطانیہ ترقیاتی مذاکرات کا نیا دور شروع
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان 8سال کے بعد ترقیاتی مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا، تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تعاون اور سماجی شعبوں میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاک برطانیہ اقتصادی تعلقات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانیہ کی وزیر ترقیاتی امور بیرونیس چیپ مین کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور ترقیاتی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا پاکستان میں برطانوی کمپنیوں کی تعداد 200سے زائد ہو چکی ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 5.
بیرونیس چیپ مین اور وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے پاک یو کے ایجوکیشن گیٹ وے کے اگلے مرحلے کا افتتاح بھی کیا۔ دونوں ممالک نے صحت، تعلیم، آبادی اور ماحولیاتی استحکام کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب سے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے وفد نے ملاقات کی،نجکاریاور غیر ملکی سرمایہ کاری پرگفتگو ہوئی۔ اورنگزیب نے کہا حکومت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کر رہی ہے،کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پرمبنی نمو میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔