اسلام آباد(این این آئی)پاکستان اور برطانیہ کے درمیان 8 سال کے بعد  ترقیاتی مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستان اور برطانیہ کے اقتصادی تعلقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانیہ کی وزیر برائے ترقیاتی امور بیرونیس چیپ مین کی اہم ملاقات ہوئی۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان 8 سال کے بعد ترقیاتی مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوگیا۔پاکستان میں برطانوی کمپنیوں کی تعداد 200 سے زائد ہونے کے باعث تجارتی حجم 5.

5 بلین پاؤنڈ سے تجاوز کر گیا۔ مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات اور سماجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیرونیس چیپ مین اور وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے ’’پاک-یو کے ایجوکیشن گیٹ وے‘‘ کے اگلے مرحلے کا بھی افتتاح کیا۔ ایجوکیشن گیٹ وے کے تحت اسٹارٹ اَپ فنڈ متعارف کروائے گئے جبکہ آن لائن لرننگ پروگرامز اور تعلیمی مواقع میں توسیع کی گئی۔پاکستان اور برطانیہ نے صحت، تعلیم، آبادی اور ماحولیاتی استحکام میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔ پاک برطانیہ تعاون کے لیے ماحولیات، قدرتی وسائل اور گرین ٹیکنالوجیز کے فریم ورک میں گرین کومپیکٹ پروگرام  کا آغاز کیا گیا۔اہم ترقیاتی پیش رفت سے پاکستان کی معیشت میں استحکام، سرمایہ کاری میں اضافہ اور عالمی اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ  عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان اور برطانیہ کے سرمایہ کاری

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق