کراچی میں خونی ڈمپر راج! منعم ظفر کا بڑا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈمپرز اور ٹینکرز شہریوں کی جانوں کے دشمن بن گئے ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ ڈمپرز اور ٹینکرز کے باعث شہریوں کی اموات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، آئے دن ہونے والے ٹریفک حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور شہری اپنے پیاروں کے جنازے اٹھانے پر مجبور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹینکرز اور ڈمپرز کے ساتھ ساتھ ای چالان کے نام پر بھی شہریوں سے لوٹ مار کی جا رہی ہے جس کے خلاف جماعت اسلامی بھرپور احتجاج کرے گی، آج شام 5 بجے نمائش چورنگی پر جماعت اسلامی کی جانب سے دھرنا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہو چکا ہے اور شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ ہیں، پانی کی شدید قلت نے ٹینکر مافیا کو مزید مضبوط کر دیا ہے جبکہ شہر کے پچاس فیصد علاقے پانی سے محروم ہیں۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا ہے کہ خونی ٹینکروں کا خاتمہ کیا جائے اور شہریوں کو نلکوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے، جماعت اسلامی ان تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔