ٹینکر کی ٹکر سے معصوم بچہ جاں بحق، جماعت اسلامی کاآج نمائش چورنگی پر دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:شہر قائد کے علاقے ابراہیم حیدری کورنگی میں واٹر ٹینکر کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والے 10 سالہ بچے فرحان کی نمازِ جنازہ جمعرات کو ادا کی گئی جس کی امامت امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کی، اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے والد نور محمد اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی، تعزیت کی اور سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
جنازے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں بے لگام ٹینکر اور ڈمپر مافیا کے باعث روزانہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں جبکہ حکومت کی بے حسی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، شہر میں ٹریفک کا مؤثر نظام نہ ہونا، سڑکوں کی خستہ حالی، جگہ جگہ تجاوزات اور پانی کی شدید قلت نے شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ بنا دی ہیں۔
منعم ظفر خان نے بتایا کہ کراچی کے تقریباً پچاس فیصد علاقے پانی کی فراہمی سے محروم ہیں، جس کے باعث ٹینکرز رہائشی علاقوں میں آزادانہ گھومتے ہیں اور حادثات کا باعث بنتے ہیں، گورننس کی ناکامی اور ناقص انفراسٹرکچر نے شہریوں کو مستقل خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کا تازہ ترین ثبوت 10 سالہ فرحان کی المناک موت ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی نے خونی ٹینکرز، ڈمپر مافیا، ای چالان کے نام پر عوام سے ناجائز وصولیوں، تباہ حال انفراسٹرکچر اور حکومتی نااہلی کے خلاف 13 دسمبر کو شام 5 بجے نمائش چورنگی پر احتجاجی دھرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ دھرنا شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، ٹینکر مافیا کے خلاف کارروائی اور ٹریفک نظام کی بہتری کے مطالبے پر مبنی ہوگا۔
منعم ظفر خان نے بچے کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومتی بے حسی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔