حکومت طلبہ کو مناسب اور محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کرے‘عائشہ مدنی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) صدر تنظیم اساتذہ پاکستان صوبہ سندھ شائستہ مدنی نے کہاہے کہ حکومت وقت طلبہ و طالبات کو مناسب اور محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کرے تاکہ ایسے اندوہناک واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ ہمیں نہایت رنج و الم کے ساتھ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ عثمان پبلک اسکول کیمپس 2 کے فرسٹ ائر کے طالب علم عابد رئیس ولد رئیس احمد نارتھ کراچی کے علاقے 4K چورنگی کے قریب ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں واٹر ٹینکر کی زد میں آکر جاںبحق ہو گئے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت دے‘ آمین۔ ہم اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان، رشتہ داروں اور پوری اسکول برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ دلخراش واقعہ ناصرف ایک قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں کے طلبہ کے جان و مال کے تحفظ کے نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بھی ہے۔ اس اندوہناک سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کراچی شہر میں طلبہ کے لیے محفوظ سفری سہولیات کا فقدان ایک بڑا المیہ بن چکا ہے۔ ہم سندھ حکومت، محکمہ ٹرانسپورٹ اور کراچی کے متعلقہ انتظامی حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے لیے محفوظ، باقاعدہ اور معیاری ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کے مؤثر اقدامات کریں تاکہ آئندہ کسی کے والدین کو اپنے بچے کی لاش وصول نہ کرنا پڑے۔ ہمارے بچے قوم کا قیمتی سرمایہ اور ملک کا مستقبل ہیں۔ ان کی حفاظت ہر ادارے اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہم پُرزور امید کرتے ہیں کہ ہمارے اس جائز اور انسانی مطالبے پر فوری سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جاسکے۔ اس تعزیتی اجلاس میں نادرا نوید‘ اسمار ضوان‘ یاسمین جاوید اور فرخندہ کمال بھی موجود تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔