کراچی، بارا کوڈا مشقوں کا دوسرا روز، ریسکیو آپریشنز کا عملی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-08-2
کراچی (آن لائن)کراچی میں جاری بارا کوڈا مشقوں کے دوسرے روز لینڈ فیز میں ریسکیو آپریشنز کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر داؤد نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مشقوں کے دوران سمندر میں تیل رساؤ کی صورت میں ساحل کو محفوظ بنانے کے طریقہ کار اور تیل پھیلنے کی صورت میں ریسکیو آپریشن کا بھی عملی مظاہرہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مشق میں ہیلی کاپٹر، جہاز اور بوٹس نے حصہ لیا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر داؤد نے 22 سال قبل کراچی کے ساحل پر پیش آنے والے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے کے بعد ساحل کا رنگ تبدیل ہوگیا تھا اور اس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم ایس اے اور پاک بحریہ نے سمندر کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف طریقہ کار اپنائے جس سے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئیں۔بارا کوڈا مشقوں میں دنیا کے 22 ممالک کے 39 مندوبین نے شرکت کی، جنہوں نے میری ٹائم اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔