نامعلوم افراد نے شوٹنگ رکوادی، صائمہ کو 2 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا، ہدایتکارہ سنگیتا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
لالی ووڈ کی مشہور ہدایتکارہ سنگیتا نے نامعلوم افراد کی جانب سے ڈرامے کی شوٹنگ رکوانے پر مقدمہ درج کروا دیا۔
ہدایتکار سید نور اور دیگر کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران سنگیتا نے بتایا کہ ان کے ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران نامعلوم افراد نے سیٹ پر فنکاروں کو دھمکایا اور ہراساں کیا۔
ادکارہ سنگیتا کا کہنا تھا کہ 50 سال ہو گئے ہیں اس انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے۔ کچھ لوگوں نے اسلحے کے زور پر میری ٹیم کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ ادکارہ صائمہ کو 2 گھنٹے تک سیٹ پر یر غمال بنائے رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے شیرا کوٹ تھانے میں مسلح افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی ہے۔
ہدایتکارہ سنگیتا نے کہا کہ ڈرامے میں نعمان اعجاز بھی تھے لیکن انہوں نے اس صورتحال کی وجہ سے کام نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ احمد جہانگیر بلوچ نامی شخص کہتا ہے کہ میڈم اکیلے میں مجھ سے ملیں، یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
اداکارہ صائمہ کے شوہر اور معروف ہدایتکار سید نور نے شکوہ کیا کہ ہم لوگوں کو انٹرٹینمنٹ دیتے ہیں اور ہمیں کیا مل رہا ہے۔ میری بیوی کو ہراساں کیا گیا، اس نے بہادری سے مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری فلم انڈسٹری اپنی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر آئندہ کوئی واقعہ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا۔
سید نور نے کہا کہ پہلے لوگ ہمیں شوٹنگ نہیں کرنے دیتے تھے اب کالے کوٹ والے تنگ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ