شاہ رخ خان نے فٹنس کیلئے اپنی روٹین میں بڑی تبدیلی کرلی، وجہ بھی بتادی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان نے فٹ رہنے کے لیے اپنے روزمرہ کے معاملات میں بڑی تبدیلی کرلی۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران شاہ رخ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی فٹنس روٹین میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے اپنی نیند کے معمولات کو بہتر بنایا ہے۔
شاہ رخ خان نے بتایا کہ وہ اب 4 گھنٹے کی نیند کی بجائے 5 سے 6 گھنٹے سوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ نیند سے پٹھوں کی بہتر بحالی ممکن ہے اور جسم تھکن کے باوجود بھی کام جاری رکھتا ہے۔
شاہ رخ خان نے کہا کہ کبھی کبھار جسم تھک جاتا ہے لیکن دل کبھی نہیں تھکتا اور اسی جذبے سے وہ مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ طبی ماہرین کے مطابق ورزش کے بعد پٹھوں کی مرمت اور نشوونما کے لیے نیند نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے مؤثر پٹھوں کی بحالی گہری نیند کے دوران ہوتی ہے جس میں 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند اہم کردار ادا کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔