چارسدہ میں فائرنگ سے 2 اسکول ٹیچرز قتل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
چارسدہ کے پڑانگ قبرستان کے علاقے میں 2 اسکول ٹیچرز کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ واقعہ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
پڑانگ کے گورنمنٹ ہائی اسکول شاہ پسند کلی کی 2 فی میل سکول ٹیچرز ڈیوٹی کے لیے جا رہی تھیں کہ ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اسکول ٹیچر موقع پر دم توڑ گئی جبکہ دوسری شدید زخمی ہو کر اسپتال منتقل کی گئی، جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھی جاں بحق ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق واقعہ کی بنیادی وجہ عناد رشتہ کا تنازع بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعہ کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ دونوں مقتول اسکول ٹیچرز کا تعلق پڑانگ سے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول ٹیچرز قتل چار سدہ قتل رشتے کا تنازع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول ٹیچرز قتل چار سدہ قتل رشتے کا تنازع اسکول ٹیچرز
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔