Nawaiwaqt:
2026-06-03@06:15:16 GMT

گردشی قرضہ ایک بارپھر بے قابو، رواں برس 734 ارب اضافے کا خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

گردشی قرضہ ایک بارپھر بے قابو، رواں برس 734 ارب اضافے کا خطرہ

توانائی کے بحران سے نبردآزما ہوتے ہوئے ملک کے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ ایک بار پھر بےقابو ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔اگر مؤثر اصلاحاتی منصوبہ فوری نافذ نہ کیا گیا تو رواں مالی سال میں گردشی قرضے میں 734 ارب روپے کا بھاری اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومت نے آئی ایم ایف کے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز (MEFP) کے تحت طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کے ذریعے اس اضافی بہاؤ کو صفر تک لانے کا ہدف رکھا ہے۔موجودہ صورتحال میں اگر پالیسی ’جوں کی توں‘ رہی تو جون 2026 کے اختتام تک گردشی قرضہ موجودہ 1.

615 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.35 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتا ہے۔وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے گردشی قرضہ مینجمنٹ پلا ن کی منظوری دے دی ہے، اس منصوبے کے تحت ٹیرف ری بیسنگ، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی اور ریکوریز میں بہتری جیسے اقدامات کے ذریعے رواں سال گردشی قرضے کے بہاؤ کو محدود کرتے ہوئے تقریباً 522 ارب روپے تک رکھا جائے گا۔ساتھ ہی حکومت کی ملکیتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو 400 ارب روپے کے قریب ادائیگیاں اور 120 ارب روپے کے پرنسپل کی مد میں واپسی بھی شامل ہے تاکہ قرضے کا مجموعی حجم ’نیوٹرل‘ رکھا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 کے اختتام پر گردشی قرضہ 1.614 ٹریلین روپے تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ارب روپے

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان