سابق کپتانوں کو مرکزی معاہدے میں کٹوتی کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان روہت شرما اور ویرات کوہلی کے سینٹرل کنٹریکٹ میں ممکنہ تنزلی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں کھلاڑی صرف ون ڈے میچز کھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے معاوضے میں کمی متوقع ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کو چار کیٹیگریز میں سینٹرل کنٹریکٹ دیتا ہے، اور اپریل 2025 میں جاری ہونے والے کنٹریکٹس میں روہت اور کوہلی اگلے سرکل میں اے پلس کیٹیگری برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ اے پلس کیٹیگری میں کرکٹرز کو 7 کروڑ بھارتی روپے سالانہ ملتے ہیں، جبکہ اے کیٹیگری میں معاوضہ 5 کروڑ روپے سالانہ ہوتا ہے۔
نتیجتاً، اگر دونوں کھلاڑی اے کیٹیگری میں چلے جاتے ہیں تو ہر ایک کے سینٹرل کنٹریکٹ میں تقریباً 2 کروڑ روپے بھارتی کی کٹوتی ہو جائے گی۔ یہ تنزلی اس بات کی عکاسی ہے کہ ایک فارمیٹ کھیلنے والے کرکٹرز کے میچز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بورڈ نے ان کے معاوضے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔