آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر قرضے کی اگلی قسط جاری کردی۔
گزشتہ روز عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلیے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی، اب ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ پاکستان کے لیے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر قرضے کی اگلی قسط جاری کردی گئی۔
اسٹیٹ بینک نے بھی آئی ایم ایف سے قسط موصول ہونے کی تصدیق کردی، پاکستان کو قرضے کی قسط کی مد میں تقریباً 1 ارب ڈالر جاری کیے گئے، آر ایس ایف پروگرام کے پہلے جائزے کی بھی منظوری کے تحت پاکستان کو مزید 20 کروڑ ڈالر ملے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ ایف ایف اور آر ایس ایف پروگرامز کے تحت اسٹیٹ بینک کو تقریباً 1.
، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت پہلی قسط، 154 ملین ایس ڈی آر کی بھی منظوری دی ہے۔
اسٹیٹ بینک کو 10 دسمبر 2025 کی قدر کے ساتھ آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر کے برابر) موصول ہوگئے ہیں۔
یہ رقم 12 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر کی جائے گی۔
حالیہ تباہ کن سیلاب کے باوجود حکومت کی مضبوط معاشی کارکردگی نے مالی و بیرونی شعبے میں استحکام برقرار رکھا، آئی ایم ایف کی جانب سے پالیسی ترجیحات میں میکرو اکنامک استحکام، پبلک فنانس اصلاحات اور مسابقت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن ہوا تھا جس میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی گئی تھی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (آی ایف ایف) پروگرام کے تحت قرض کی تیسری قسط کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم ملے گی۔
ذرائع کے مطابق 1.3 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی پہلی قسط بھی ملے گی، نئی قسط کے بعد دونوں قرض پروگرامز کے تحت پاکستان کو موصول ہونے والی مجموعی رقم 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کی دو اقساط پہلے ہی جاری کی جا چکیں،
اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے دوسرے اقتصادی جائزے کی بھی منظوری دے دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کے لیے آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پاکستان کو کروڑ ڈالر کی منظوری ارب ڈالر کے تحت
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔