عظمیٰ گیلانی نے ٹیلی وژن چھوڑنے کی جذباتی وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پی ٹی وی کی معروف سینئر اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے اپنے کیریئر کے عروج پر ٹی وی چھوڑنے کی اصل اور جذباتی وجہ بیان کر دی۔
عظمیٰ گیلانی پاکستان کے کلاسک ڈراموں کی پہچان رہی ہیں، ان کے مقبول ترین ڈراموں میں درجنوں شاہکار شامل ہیں، وہ گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔
ان دنوں عظمیٰ گیلانی پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں اور اپنے ساتھی فنکاروں سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں، حال ہی میں وہ ایک پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ انہوں نے شوبز کو کیوں چھوڑا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ گیلانی نے بتایا کہ اشفاق احمد صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ تم بہت گہرا پیار کرنے والی ہو، تم اپنے بچوں سے اتنی محبت کرتی ہو تو اُنہیں چھوڑ کیسے پاؤ گی؟
اُنہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی محبت نے مجھے آسٹریلیا جانے پر مجبور کیا، یہ میری سب سے بڑی قربانی تھی کہ اپنے کیریئر کے عروج پر میڈیا چھوڑ کر بچوں کے پاس چلی گئی، میں نے سوچا اگر زندگی کے صرف دس سال بھی رہ جائیں، تو میں اپنے بچوں سے صرف چند دن ہی مل پاؤں گی، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہمیشہ اُن کے ساتھ رہوں۔
اداکارہ نے اپنے بچپن کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد حالات بہت خراب ہو گئے تھے اور میرے چچا نے چھ بچوں کی پرورش کے لیے فوج چھوڑ کر دوسری ملازمت اختیار کی، میں نے اپنی شادی کے لیے رشتے کے لیے اس لیے ہاں کی کہ چچا کی مالی ذمہ داری کچھ کم ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔