WE News:
2026-06-03@03:54:39 GMT

انسانوں پر کام کی جگہ پر نظر انداز ہونے کا جذباتی اثر

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

انسانوں پر کام کی جگہ پر نظر انداز ہونے کا جذباتی اثر

ہماری زندگی بچپن سے جوانی کی طرف بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکول اور گھر سے کام کی جگہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں بہت سے لوگ سب کے درمیان بھی تنہا محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’اور کیسے ہیں؟‘ کے علاوہ بھی کچھ سوال جو آپ کو لوگوں کے قریب لاسکتے ہیں!

ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو کام پر تنہائی کیوں محسوس ہوتی ہے۔

تنہائی کا مطلب صرف اکیلے رہنا نہیں۔ آپ ایک بھرے دفتر میں بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ کوئی آپ کو نہیں دیکھ رہا یا آپ کی اہمیت نہیں سمجھ رہا۔

مزید پڑھیے: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟

یہ احساس کبھی کبھار چھوٹے چھوٹے انداز میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ساتھی جو باتیں مختصر کرتا ہے، وہ ساتھی جو اکیلے کھانا کھاتا ہے یا وہ شخص جو بظاہر ٹھیک لگتا ہے لیکن اندر سے جڑا ہوا محسوس نہیں کرتا۔

تنہائی کے اثرات

کام کی جگہ پر تنہائی نہ صرف آپ کی پیداواریت پر اثر ڈال سکتی ہے بلکہ آپ کی خود اعتمادی، جذباتی سکون اور جسمانی صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔

یہ احساس گھر واپس بھی جا سکتا ہے جس سے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اپنائیت کی کمی یا تعلق کا فقدان (بیلونگنگ گیپ)

انسان قدرتی طور پر چاہتا ہے کہ اس کی اہمیت گروپ میں سمجھی جائے۔

مزید پڑھیں: ’اسنیکٹویٹی‘: بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات ٹالنے والی یہ ترکیب کیا ہے؟

جب یہ احساس کم یا غائب ہو، دماغ اسے اہم چیز کھونے کے مترادف سمجھتا ہے، جس سے فکر، شک اور الگ تھلگ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

دور سے کام کرنا

گھر سے کام کرنے میں آزادی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات لوگ خاموشی سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔

مائیکرو کنکشنز

چھوٹے لیکن معنی خیز لمحات جیسے کسی ساتھی کا صبح پوچھنا کہ ’کیسا چل رہا ہے‘ یا مختصر بات چیت یہ سب احساس تعلق بڑھاتے ہیں۔

لیڈرز اور ساتھیوں کا کردار

مختصر شکریہ کہنا، ملاقات سے پہلے چھوٹی بات کرنا یا کھانے یا کافی پر شامل کرلینا۔

ریموٹ ٹیمز کے لیے

اس حوالے سے کچھ تجاویز یہ ہوسکتی ہیں کہ کیمرے آن کیے جائیں، ذاتی اپڈیٹس شیئر کی جائیں یا آرام سے چیک ان کیا جائے۔

اہم بات

تنہائی کوئی ذاتی ناکامی نہیں۔ یہ انسانی ردعمل ہے جو ہر کسی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ تعلقات کی ضرورت ایک قدرتی انسانی ضرورت ہے۔

اگر آپ محسوس کر رہے ہیں کہ آپ تنہا ہیں تو کسی قابل اعتماد ساتھی سے بات کریں، گروپ ڈسکشن میں شامل ہوں یا اپنے مینیجر سے اپنی حالت کا ذکر کریں۔

کام کی جگہ پر چھوٹے قدم اٹھانے سے ماحول زیادہ گرم اور انسانی بن سکتا ہے اور پیداواریت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

انسان کو اپنے اور دوسروں کے جذبات پر دھیان دینا چاہیے اور اگر وہ خود کو تنہا محسوس کر رہا ہو تو آواز بلند کرنا پھر اس کا حق ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بیلونگنگ گیپ کام کی جگہ کام کی جگہ پر نظرانداز کیا جانا مائیکرو کنکشنز ورک پلیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کام کی جگہ کام کی جگہ پر نظرانداز کیا جانا مائیکرو کنکشنز ورک پلیس کام کی جگہ پر

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان