انسانوں پر کام کی جگہ پر نظر انداز ہونے کا جذباتی اثر
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ہماری زندگی بچپن سے جوانی کی طرف بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکول اور گھر سے کام کی جگہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں بہت سے لوگ سب کے درمیان بھی تنہا محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’اور کیسے ہیں؟‘ کے علاوہ بھی کچھ سوال جو آپ کو لوگوں کے قریب لاسکتے ہیں!
ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو کام پر تنہائی کیوں محسوس ہوتی ہے۔
تنہائی کا مطلب صرف اکیلے رہنا نہیں۔ آپ ایک بھرے دفتر میں بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ کوئی آپ کو نہیں دیکھ رہا یا آپ کی اہمیت نہیں سمجھ رہا۔
مزید پڑھیے: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟
یہ احساس کبھی کبھار چھوٹے چھوٹے انداز میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ساتھی جو باتیں مختصر کرتا ہے، وہ ساتھی جو اکیلے کھانا کھاتا ہے یا وہ شخص جو بظاہر ٹھیک لگتا ہے لیکن اندر سے جڑا ہوا محسوس نہیں کرتا۔
تنہائی کے اثراتکام کی جگہ پر تنہائی نہ صرف آپ کی پیداواریت پر اثر ڈال سکتی ہے بلکہ آپ کی خود اعتمادی، جذباتی سکون اور جسمانی صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
یہ احساس گھر واپس بھی جا سکتا ہے جس سے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اپنائیت کی کمی یا تعلق کا فقدان (بیلونگنگ گیپ)انسان قدرتی طور پر چاہتا ہے کہ اس کی اہمیت گروپ میں سمجھی جائے۔
مزید پڑھیں: ’اسنیکٹویٹی‘: بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات ٹالنے والی یہ ترکیب کیا ہے؟
جب یہ احساس کم یا غائب ہو، دماغ اسے اہم چیز کھونے کے مترادف سمجھتا ہے، جس سے فکر، شک اور الگ تھلگ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
گھر سے کام کرنے میں آزادی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات لوگ خاموشی سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔
مائیکرو کنکشنزچھوٹے لیکن معنی خیز لمحات جیسے کسی ساتھی کا صبح پوچھنا کہ ’کیسا چل رہا ہے‘ یا مختصر بات چیت یہ سب احساس تعلق بڑھاتے ہیں۔
لیڈرز اور ساتھیوں کا کردارمختصر شکریہ کہنا، ملاقات سے پہلے چھوٹی بات کرنا یا کھانے یا کافی پر شامل کرلینا۔
ریموٹ ٹیمز کے لیےاس حوالے سے کچھ تجاویز یہ ہوسکتی ہیں کہ کیمرے آن کیے جائیں، ذاتی اپڈیٹس شیئر کی جائیں یا آرام سے چیک ان کیا جائے۔
اہم باتتنہائی کوئی ذاتی ناکامی نہیں۔ یہ انسانی ردعمل ہے جو ہر کسی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ تعلقات کی ضرورت ایک قدرتی انسانی ضرورت ہے۔
اگر آپ محسوس کر رہے ہیں کہ آپ تنہا ہیں تو کسی قابل اعتماد ساتھی سے بات کریں، گروپ ڈسکشن میں شامل ہوں یا اپنے مینیجر سے اپنی حالت کا ذکر کریں۔
کام کی جگہ پر چھوٹے قدم اٹھانے سے ماحول زیادہ گرم اور انسانی بن سکتا ہے اور پیداواریت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
انسان کو اپنے اور دوسروں کے جذبات پر دھیان دینا چاہیے اور اگر وہ خود کو تنہا محسوس کر رہا ہو تو آواز بلند کرنا پھر اس کا حق ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیلونگنگ گیپ کام کی جگہ کام کی جگہ پر نظرانداز کیا جانا مائیکرو کنکشنز ورک پلیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کام کی جگہ کام کی جگہ پر نظرانداز کیا جانا مائیکرو کنکشنز ورک پلیس کام کی جگہ پر
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور