شو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، پاکستان آئیڈل کے کنٹسٹنٹ کے ججز پر سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان کے سب سے بڑے موسیقی کے مقابلے پاکستان آئیڈل سیزن 2 کو جہاں ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، وہیں یہ شو مختلف تنازعات کا شکار بھی ہے۔ ابتدائی طور پر ججز پینل کو تنقید کا سامنا رہا اور اب شو ایک نئے تنازعے کی زد میں ہے جس کے مرکز میں ٹاپ 16 کنٹسٹنٹ ایم ابرار شاہد ہیں۔
ایم ابرار شاہد نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے شو سے خود کو الگ کیا ہے اور انہیں باہر نہیں نکالا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں شو میں منصفانہ موقع نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق ان کی آواز کو اس قدر آٹوٹیون کیا جا رہا تھا کہ وہ ان کی اصل آواز سے مشابہت نہیں رکھتی تھی جس پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔
View this post on Instagram
A post shared by Muhammad Ibrar Shahid (@m_ibrarshahidmusic)
ابرار شاہد کے مطابق انہیں متعدد کالز آئیں اور کہا گیا کہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دیں اور تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ شو سے متعلق معاملات پر بات کریں گے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس کے باوجود اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے میں سچ بتاؤں گا۔ ان کا مزید دعویٰ ہے کہ ’شروع دن سے ہی مجھے شو میں رکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ججز نے کئی اچھے کنٹسٹنٹس کو باہر کیا اور اب مجھے بھی نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی کیونکہ میں نے سچ بولا‘۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ ایگریمنٹ سائن ہوا ہے تو درمیان میں شو چھوڑنے سے آپ کے خلاف لیگل ایکشن لیا جانا بنتا ہے۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شو میں کتنے سفارشی گلوکار آئے ہیں جبکہ کئی صارفین نے انہیں اپنے گانے یوٹیوب پر اپلوڈ کرنے کا مشورہ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم ابرار شاہد پاکستان آئیڈل سیزن 2 پاکستان آئیڈیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم ابرار شاہد پاکستان ا ئیڈل سیزن 2 پاکستان ا ئیڈیل ابرار شاہد
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔