سینیٹر خرم ذیشان کی رہائشگاہ پر حملہ قابل مذمت اور تشویش ناک ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم چیئرمین نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کی جان، مال اور سیاسی مؤقف کی حفاظت کو یقینی بنائے، چاہے وہ کسی بھی جماعت یا نظریے سے تعلق رکھتا ہو، اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ یہ سن کر نہایت افسوس اور تشویش ہوئی کہ پشاور میں پی ٹی آئی کے سینیٹر خرم ذیشان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے دو ملازمین زخمی ہوئے، یہ بہیمانہ حملہ ملک میں سیاسی اختلافِ رائے کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی سنگین علامت ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ نہایت ضروری ہے کہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے، ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کی جان، مال اور سیاسی مؤقف کی حفاظت کو یقینی بنائے، چاہے وہ کسی بھی جماعت یا نظریے سے تعلق رکھتا ہو، اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو شہریوں کے تحفظ اور سیاسی استحکام کی ضمانت بن سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔