عوامی مینڈیٹ کی نفی سے ملک کا نقصان ہو گا: شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
شاہد خاقان عباسی—تصویر بشکریہ فیس بک
سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی نفی سے ملک کا نقصان ہو گا، گالیوں کی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
پشاور پریس کلب میں عوام پاکستان پارٹی کے ممبران کی تقریب سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا مقصد اقتدار اور کرسی نہیں بلکہ ملک کو فائدہ پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک قانون اور آئین کے راستے سے ترقی کرے گا، نوجوانوں کے مسائل حل نہ کرنے سے سب سے بڑا بوجھ بنے گا۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ نوجوان تعلیم اور کاروبار کے مواقع چاہتے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرزکو تحمل سے وقت گزارنا ہو گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگانے کی گنجائش ہے جو دیگر صوبوں میں بھی لگ سکتا ہے، عوام کے منڈیٹ کی نفی سے ملک کا نقصان ہو گا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بدنصیبی ہے کہ عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا، آئین میں ترمیم عوام کی رائے سے ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے، گالیوں کی سیاست نہیں ہونی چاہیے، نفاق کو ختم کرنا ہو گا۔
سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں، افغانستان سے حملہ ہو رہا ہو تو ان کو منع کرنا چاہیے، افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہم ملک کے مسائل کے حل پر بات کرتے ہیں، ہماری واحد جماعت ہے جو ملک کو جوڑنے کی بات کرتی ہے، ہر کسی کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اگر کوئی خیبر پختون خوا کو نظر انداز کرے گا تو مسائل بڑھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔