دہشت گرد اپنا نظام عوام پر مسلط نہیں کر سکتے، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گرد اپنا نظام قوم پر مسلط نہیں کر سکتے اور ریاست کے سامنے سرنڈر کرنا سب کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہدا ملک اور قوم کا فخر ہیں، اور عسکریت پسندوں کا ہتھیار ڈالنا خوش آئند اقدام ہے، ڈیرہ بگٹی میں تقریباً 100 دہشت گردوں نے ریاست کے سامنے سرنڈر کیا اور ریاست نے معافی اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ “جو ریاست کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جائے گا ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں بلوچستان میں دہشت گردی کے 900 واقعات رونما ہوئے، جن میں 760 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ سویلین شہدا کی تعداد 280 ہے، جبکہ پیرا ملٹری فورسز کے 205 اہلکار بھی شہید ہوئے، جن میں بلوچستان کے دو افسران شامل ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ معرکہ حق میں بلوچستان نے خود سے سات گنا بڑے دشمن کو شکست دی، اور دہشت گرد اپنا بیانیہ عوام پر مسلط نہیں کر سکتے، پاکستان، پاک افواج اور فیلڈ مارشل کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے لیکن قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور ریاست کو کمزور کرنے والے بیانیے کو رد کرنا ہوگا۔
سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کسی بھی قسم کا عام ملٹری آپریشن نہیں ہو رہا اور تشدد کے ذریعے ملک کو توڑنے کی بات کی جا رہی ہے، کسی بھی حکومت کی کرپشن یا بدانتظامی پر ناراضی ہو سکتی ہے، لیکن ریاست پر نہیں۔
وزیراعلیٰ نے سہیل آفریدی سے اپیل کی کہ خیبرپختونخوا میں امن اور ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے 100 فیصد اتفاق ظاہر کیا، بلوچستان کے عوام ہمیشہ پاک افواج کے ساتھ کھڑے رہے، اور آئندہ بھی رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سرفراز بگٹی نے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔