عوامِ پاکستان کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ ملک کے لیے نہایت افسوس ناک صورتحال ہے کہ ریاستی ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں اور ماحول میں نفرت بڑھ رہی ہے۔
پشاور پریس کلب میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئین میں ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کو ملکی تاریخ پر “سیاہ دھبہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تبدیلیاں کبھی ذاتی فائدے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ قومی مفاد کے لیے کی جاتی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک اس وقت اسی لیے مسائل میں مبتلا ہے کیونکہ قانون اور آئین سے انحراف معمول بن چکا ہے، اور نوجوانوں کے مستقبل کی کسی کو فکر نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہوسکتی، اور بدقسمتی سے آج یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، گالم گلوچ اور نفرت سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ:”ہم کسی کو گالی نہیں دیتے، ہم جوڑنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر آج سب نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کل صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔”
شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ وہ کسی طاقت کا سہارا لے کر نہیں بلکہ عوامی حمایت سے آگے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
گورنر راج کی چہ مگوئیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختون خوا میں اس کی گنجائش ہے تو ہر صوبے میں ہے، مگر اصل مسئلہ اختیارات کی ہوس ہے—اگر کرسی کی خواہش چھوڑ دی جائے تو بہت سے مسائل خود ہی حل ہو جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اسی وقت ہوئی جب جماعت نے “ووٹ کو عزت دو” کے اصول سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں واٹس ایپ گروپس سے نہیں چل سکتیں، آئینی ترمیم ہمیشہ عوامی مفاد میں ہونی چاہیے۔
آخر میں افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کا ہر صورت دفاع کرنا ہے:
اگر وہاں سے جارحیت ہو تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا، خاموش رہنے کا کوئی آپشن نہیں۔”

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا