انسانی عادات و رویوں پر اثر انداز ہونے والے تمباکو کا سفر
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
انسانی معاشرے میں ہر دور میں نئی اشیا ایجاد کی گئی ہیں جن میں سے بعض نے لوگوں کی عادات اور رویوں پر بھی اثر ڈالا۔ ایسی ہی ایک چیز تمباکو ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تمباکو کی صنعت بچوں کو ہدف بنانے کے لیے جارحانہ مارکیٹنگ کرتی ہے، ماہرین
ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو کی دریافت اس وقت ہوئی جب یورپی لوگ امریکا پہنچے اور وہاں بڑے تمباکو کے کھیت دیکھے۔
مقامی لوگ اسے یا تو مٹی کے پائپ کے ذریعے پیتے تھے یا چبا کر کھاتے تھے جس سے ہلکا سا نشہ محسوس ہوتا تھا۔
یورپ میں جب اس کا تعارف ہوا اور استعمال کی تشہیر کی گئی، تو یہ بہت مقبول ہوا۔ یہاں لوگ اسے پائپ یا سگار کے ذریعے استعمال کرنے لگے، اور بعد میں سگریٹ عام ہو گئی۔
ہندوستان میں تمباکو سب سے پہلے پرتگالی تاجروں کے ذریعے آیا، جو اسے دکن لے آئے۔ ایک مغل افسر اسد بیگ نے بھی کچھ تمباکو اکبر کے دربار میں تحفے کے طور پر پیش کیا، لیکن اکبر کے دور میں یہ زیادہ مقبول نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب میں چھوٹے اسٹورز اور اسٹالز پر تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد
جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر حکمرانی شروع کی تو بہار میں تمباکو کی کاشت شروع ہوئی اور لوگوں میں اس کے استعمال کی دلچسپی بڑھائی گئی۔ ہندوستان میں سب سے پہلے تمباکو پان کے ساتھ استعمال ہوا، کیونکہ پان کھانے کی روایت بہت پرانی تھی۔
تمباکو کی مقبولیت میں سب سے بڑا کردار حقے نے ادا کیا۔ حقے میں تمباکو مختلف خوشبووں کے ساتھ استعمال ہوتا تھا۔ یہ نہ صرف امرا کے درمیان مقبول ہوا بلکہ عام لوگوں میں بھی رواج پایا۔ خاص طور پر گاؤں میں لوگ حقہ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ کر پیتے تھے جو دوستی اور ہم آہنگی کی علامت تھا۔
عام لوگ سگریٹ استعمال کم کرتے تھے کیونکہ یہ مہنگا تھا اس کی جگہ بیڑی مقبول ہوئی جو سستی اور نشہ آور تھی۔
مزید پڑھیں: تمباکو نوشی قوت مدافعت کو کیسے خوفناک حد تک متاثر کرتی ہے؟
تمباکو عرب ملکوں میں بھی کافی مقبول تھا جیسا کہ رچرڈ برٹں کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ عرب لوگ کافی اور تمباکو دونوں بہت پسند کرتے تھے۔
تمباکو کے خلاف کچھ تاریخی اقدامات بھی ہوئے۔ مثال کے طور پر سنہ 1890 میں شاہ ایران نے تمباکو کا ٹھیکہ ایک انگریز کمپنی کو دیا جس کے خلاف جمال الدین افغانی نے فتویٰ جاری کر کے ہر قسم کے تمباکو کو حرام قرار دیا۔ اس احتجاج کی وجہ سے شاہ نے ٹھیکہ ختم کر دیا۔
آج کل تمباکو کے نقصانات سامنے آنے کے بعد اس کے استعمال میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہوں انسان غلطی کر سکتا ہے لیکن حقیقت سامنے آنے پر پرہیز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تمباکو تمباکو کا انسانی رویے پر قبضہ تمباکو کا سفر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تمباکو تمباکو کا سفر تمباکو کی تمباکو کا
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :