WE News:
2026-06-02@22:58:02 GMT

انسانی عادات و رویوں پر اثر انداز ہونے والے تمباکو کا سفر

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

انسانی عادات و رویوں پر اثر انداز ہونے والے تمباکو کا سفر

انسانی معاشرے میں ہر دور میں نئی اشیا ایجاد کی گئی ہیں جن میں سے بعض نے لوگوں کی عادات اور رویوں پر بھی اثر ڈالا۔ ایسی ہی ایک چیز تمباکو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تمباکو کی صنعت بچوں کو ہدف بنانے کے لیے جارحانہ مارکیٹنگ کرتی ہے، ماہرین

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو کی دریافت اس وقت ہوئی جب یورپی لوگ امریکا پہنچے اور وہاں بڑے تمباکو کے کھیت دیکھے۔

مقامی لوگ اسے یا تو مٹی کے پائپ کے ذریعے پیتے تھے یا چبا کر کھاتے تھے جس سے ہلکا سا نشہ محسوس ہوتا تھا۔

یورپ میں جب اس کا تعارف ہوا اور استعمال کی تشہیر کی گئی، تو یہ بہت مقبول ہوا۔ یہاں لوگ اسے پائپ یا سگار کے ذریعے استعمال کرنے لگے، اور بعد میں سگریٹ عام ہو گئی۔

ہندوستان میں تمباکو سب سے پہلے پرتگالی تاجروں کے ذریعے آیا، جو اسے دکن لے آئے۔ ایک مغل افسر اسد بیگ نے بھی کچھ تمباکو اکبر کے دربار میں تحفے کے طور پر پیش کیا، لیکن اکبر کے دور میں یہ زیادہ مقبول نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب میں چھوٹے اسٹورز اور اسٹالز پر تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد

جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر حکمرانی شروع کی تو بہار میں تمباکو کی کاشت شروع ہوئی اور لوگوں میں اس کے استعمال کی دلچسپی بڑھائی گئی۔ ہندوستان میں سب سے پہلے تمباکو پان کے ساتھ استعمال ہوا، کیونکہ پان کھانے کی روایت بہت پرانی تھی۔

تمباکو کی مقبولیت میں سب سے بڑا کردار حقے نے ادا کیا۔ حقے میں تمباکو مختلف خوشبووں کے ساتھ استعمال ہوتا تھا۔ یہ نہ صرف امرا کے درمیان مقبول ہوا بلکہ عام لوگوں میں بھی رواج پایا۔ خاص طور پر گاؤں میں لوگ حقہ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ کر پیتے تھے جو دوستی اور ہم آہنگی کی علامت تھا۔

عام لوگ سگریٹ استعمال کم کرتے تھے کیونکہ یہ مہنگا تھا اس کی جگہ بیڑی مقبول ہوئی جو سستی اور نشہ آور تھی۔

مزید پڑھیں: تمباکو نوشی قوت مدافعت کو کیسے خوفناک حد تک متاثر کرتی ہے؟

تمباکو عرب ملکوں میں بھی کافی مقبول تھا جیسا کہ رچرڈ برٹں کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ عرب لوگ کافی اور تمباکو دونوں بہت پسند کرتے تھے۔

تمباکو کے خلاف کچھ تاریخی اقدامات بھی ہوئے۔ مثال کے طور پر سنہ 1890 میں شاہ ایران نے تمباکو کا ٹھیکہ ایک انگریز کمپنی کو دیا جس کے خلاف جمال الدین افغانی نے فتویٰ جاری کر کے ہر قسم کے تمباکو کو حرام قرار دیا۔ اس احتجاج کی وجہ سے شاہ نے ٹھیکہ ختم کر دیا۔

آج کل تمباکو کے نقصانات سامنے آنے کے بعد اس کے استعمال میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہوں انسان غلطی کر سکتا ہے لیکن حقیقت سامنے آنے پر پرہیز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تمباکو تمباکو کا انسانی رویے پر قبضہ تمباکو کا سفر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تمباکو تمباکو کا سفر تمباکو کی تمباکو کا

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع