پوتے کی جان انتظامی غفلت کے باعث گئی، گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والے کمسن ابراہیم کے دادا بھی غمزدہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے اہل علاقہ اور خاندان کو سوگوار کردیا ہے، جہاں کمسن ابراہیم کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ کمسن ابراہیم کے دادا نے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پوتے کی جان انتظامی غفلت کے باعث گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن ابراہیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر متعلقہ افسران معطل
ابراہیم کے دادا کے مطابق بچہ شام کے وقت گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ اچانک کھلے گٹر میں جا گرا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مین ہول کئی دنوں سے بغیر ڈھکن کے پڑا تھا اور اہل محلہ نے کئی بار متعلقہ اداروں کو آگاہ بھی کیا تھا، مگر انتظامیہ نے کوئی اقدام نہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت ڈھکن رکھ دیا جاتا تو ایک معصوم جان نہ جاتی۔
اہل خانہ کے مطابق ابراہیم ایک ہی بچہ تھا اور خاندان کا مرکز تھا۔ دادا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بچے کی لاش جب گٹر سے نکالی گئی تو گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ انہوں نے کہا کہ اسے اسکول بھیجنے کی تیاریاں کررہے تھے مگر شہر کے بگڑے ہوئے نظام نے سب کچھ ختم کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: کمسن ابراہیم کی لاش تلاش کرنے والے تنویر کو پولیس کا اعزاز، ریسکیو دعوؤں پر سوالات اٹھ گئے
ابراہیم کے دادا نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افسران کو معطل کیا جائے اور علاقے کے تمام کھلے مین ہولز کو فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کراچی کے شہریوں کا روزانہ کا مسئلہ ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اہل علاقہ نے بھی اس واقعے کو انتظامیہ کی کھلی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گلیوں میں کھلے مین ہولز ایک مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق شہر بھر میں نکاسی آب کا نظام بدتر ہو چکا ہے اور شکایات کے باوجود کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ابراہیم دادا ڈھکن کراچی کمسن گٹر والڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابراہیم ڈھکن کراچی گٹر والڈ ابراہیم کے دادا کمسن ابراہیم کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.