اسلام آباد (نیوزڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفیکشن میں دیر کی بنیادی وجہ احتیاط سے کام کرنا ہے،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، کچھ متاثر نہیں ہوا . ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عظمی خان کی عمران خان سے ملاقات ہوچکی ہے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے عظمی خانم نے درخواست کی تھی ، سپرنٹنڈنٹ نے کہا تھا آپ ملاقات کرلیں تاکہ غلط فہمی ختم ہو سیاسی مشیر کا کہنا تھا کہ ملاقات میں بشری بی بی بھی موجود تھیں اور تینوں کا ایک گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک تبادلہ خیال ہوا.

انہوں نے کہا کہ جیل رولز کے مطابق سیاسی یا امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ملاقات روکی جا سکتی ہے سی ڈی ایف کے نوٹیفیکشن تاخیر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سی ڈی ایف سے متعلق ٹیم نے ساری چیزوں کومرتب کرنا ہے، ری چیک کرنے کے لئے کسی دوسری ٹیم کوبھی کام سونپا جاتا ہے، اہم نوٹیفکیشن کے مراحل ہوتے ہیں، بعض اوقات وقت لگ جاتا ہے، نوٹیفکیشن میں جودیرہورہی ہے اس کی بنیادی وجہ احتیاط سے کام کرنا ہے.
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک ادارہ بننے جارہا ہے،اس میں کسی قسم کا جھول نہیں ہونا چاہیے، نوٹیفکیشن میں تاخیر میں وقت لگنے کو کوئی معنی نہیں پہنانے چاہئیں، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، کچھ متاثر نہیں ہوا . ان کا کہنا تھا کہ رولز اور ریگولیشن ادارے نے بنانے ہیں، حکومت نے نہیں، رولز اور ریگولیشن کی منظوری وزارت دفاع دے گی، سی ڈی ایف کااصل آفس چیف آف آرمی اسٹاف کا ہی ہے، سی ڈی ایف کاعہدہ آرمی چیف کے پاس ہی ہوگا.
سیاسی مشیر نے مزید کہا کہ آرمی چیف کو نئی ذمہ داری تفویض یا نوٹیفائی ہوگی، میرا نہیں خیال کہ کوئی نئے سرے سے اس قسم کا معاملہ ہوگا، ادارہ چاہے کہ سی ڈی ایف کا تقرر جلدی ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف کے لئے باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے، آرمی چیف نئے آنے والے آرمی چیف کو اسٹیک حوالے کرتے ہیں. اپوزیشن لیڈر سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ اسپیکر اسمبلی کے پاس ہے، اسپیکر کا اپوزیشن سے تعلق فرینڈلی ہے، دو دن پہلے اپوزیشن کی لیڈر شپ اسپیکر کے پاس بیٹھی تھی ، میری موجودگی میں کوئی شکایت نہیں کی گئی، اس معاملے پر عدالت میں معاملہ چل رہا ہے، اسپیکر نے کہا کہ عدالت سے فیصلہ آنے پر کسی نتیجے پر پہنچ جاؤ ں گا.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ ا رمی چیف سی ڈی ایف کرنا ہے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی