پی ایس ایل کی نئی فرنچائز، ریزرو پرائس سوا ارب روپے سے زائد مقرر
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پی ایس ایل کی نئی فرنچائز، ریزرو پرائس سوا ارب روپے سے زائد مقرر
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی فرنچائز کے لیے ریزرو پرائس تقریباً سوا ارب روپے رکھی جانے کا امکان ہے، جس میں بڈنگ میں ملکی رئیل اسٹیٹ اور سولر انرجی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ غیرملکی سرمایہ کار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کی دو نئی فرنچائز کا حتمی فیصلہ جنوری میں کیا جائے گا، اور اس حوالے سے ابتدائی ٹینڈر پہلے ہی جاری کر دیا گیا ہے۔ بڈنگ میں کئی ملکی اور غیرملکی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں پاکستان کی پانچ بڑی پارٹیز بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کمپنیوں کا تعلق رئیل اسٹیٹ اور سولر انرجی سے ہے، جبکہ امریکا کی دو کاروباری شخصیات بھی فرنچائز خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ برطانیہ اور ایک دیگر یورپی ملک کی کمپنیاں بھی اس مقابلے میں شامل ہوں گی۔
ٹیکنیکل پروپوزلز جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 دسمبر مقرر کی گئی ہے، اور صرف کامیاب بولی دہندگان ہی اگلے مرحلے میں حصہ لے سکیں گے۔
دوسری جانب، ملتان سلطانز کے اونر علی ترین نے لیگ کو الوداع کہہ دیا ہے، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق کچھ سیاسی شخصیات معاملے کو سلجھانے کی کوششیں کر رہی ہیں، اور اگر علی ترین اپنے سابقہ بیانات واپس لیتے ہیں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
ملتان سلطانز کے مالک کو سالانہ تقریباً ایک ارب 8 کروڑ روپے فیس ادا کرنی پڑتی تھی، جو 25 فیصد اضافے کے بعد تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ممکنہ طور پر وہ فرنچائز اپنے پاس برقرار نہیں رکھنا چاہتے۔ اگر علی ترین ملکیت نہیں رکھتے تو ملتان سلطانز کے نام سے فرنچائز برقرار رہنا بھی یقینی نہیں ہوگا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ موجودہ ٹیم مالکان ری بڈنگ میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں، البتہ نئی فرنچائز کے لیے بڈنگ میں شامل ایک کمپنی کا نام خاص طور پر توجہ کا مرکز ہے، جو ٹی سے شروع ہوتا ہے اور اس کے آگے گروپ آف کمپنیز درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نئی فرنچائز پی ایس ایل
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔