Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:43:47 GMT

PIA نجکاری، بڈنگ دسمبر کے وسط تک ہوجائے گی، نجکاری کمیشن

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

PIA نجکاری، بڈنگ دسمبر کے وسط تک ہوجائے گی، نجکاری کمیشن

 

اسلام آباد:(نیوزڈیسک)نجکاری کمیشن نے کہا ہے کہ دسمبر کے وسط تک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی بڈنگ مکمل کر دی جائے گی، جس کیلئے وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا، جہاں سیکریٹری نجکاری کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ دسمبر کے وسط تک پی آئی اے کی بڈنگ مکمل کر دی جائے گی جس کے لیے پی آئی اے کی ریزرو پرائس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چار بڈرز کے ساتھ کمرشل ٹرمز طے کیے جا رہے ہیں، شیئر پرچیز ایگریمنٹ اور شیئر ہولڈنگ ایگریمنٹ سے متعلق بات چیت کی جا رہی ہے، پری بڈ کوالیفیکیشن پر تین روز سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین اور پینشنرز کا خیال رکھا جائے۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا پلان ہے اسلام آباد ، گوجرانولہ اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی جائے گی، پلان کے تحت دسمبر یا جنوری میں تینوں کا آر ایف پی جاری ہونا تھا تین ڈسکوز کا آر ایف پی تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دسمبر 2026 تک بجلی کے تمام 3 فیز میٹرز کی جگہ ایڈوانس میٹرز لگا دیے جائیں گے، جس پر رکن کمیٹی ارشد وہرہ نے کہا کہ کیا کراچی میں ایڈوانس میٹرز لگائے جائیں گے تاہم جواب میں پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ نہیں کراچی میں ایڈوانس میٹرز نہیں لگائے جائیں گے۔

رکن کمیٹی ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پشاور کے نواحی علاقوں میں دو گھنٹے بجلی مل رہی ہے، جس کے جواب میں پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ 60-80 فیصد لاسز پر 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، پشاور کے نواحی علاقوں میں 80 فیصد سے زیادہ لائن لاسز ہوں گے۔

facebook

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر