پھلیاں پکانے سے پہلے پانی میں بھگونا ضروری ؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پھلی ایک عمدہ غذا جو ہمیں اہم غذائیات فراہم کرتی ہے۔ پھلیاں اور دیگر دالیں باقاعدگی سیکھانے سے موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کچھ قسم کے کینسر چمٹنے کا خطرہ کم کرنا ممکن ہے۔ خشک پھلیاں بھگونے کا ایک اہم فائدہ ان کی پکائی کا وقت کم ہونا ہے ۔ تحقیق کے مطابق یہ وقت اکثر 20 سے 38 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
بھگونے سے ان کی ساخت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خشک پھلیوں میں 12 سے 14 فیصد تک نمی ہوتی ہے۔ جب آپ انہیں پانی میں بھگوتے ہیں، تو ان کا حجم دوگنا ہو جاتا ہے اور زیادہ نمی کی مقدار انہیں نرم بنا دیتی ہے۔ پھلیوں کے بیج کی تہہ کی موٹائی بتاتی ہے کہ وہ پانی کتنی تیزی سے جذب کرتی ہیں۔
یاد رکھیں، اگر پھلیاں سخت (Hard)پانی میں بھگوئی جائیں جس میں معدنیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، تو ان کے نرم ہونے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ سخت پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات انھیں نرم کرنے میں مشکل پیدا کرتے ہیں۔یہ مسئلہ دور کرنے کے لیے ڈسٹلڈ پانی استعمال کیجیے یا پانی میں تھوڑا سا نمک یا بیکنگ سوڈا ڈال دیجیے۔
خشک پھلیوں کو بھگونا انہیں ہضم کرنے میں بھی آسان بناتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پھلیوں میں ایک قسم کا غیر ہضم شدہ کاربوہائیڈریٹ ’’اولیگوساکرائیڈز‘‘ (oligosaccharides) ہوتا ہے جو گیس اور اپھارے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمارا جسم اولیگوساکرائیڈز توڑنے کے لیے انزائمز نہیں رکھتا۔جب خشک پھلیوں کو بھگویا جائے، تو کچھ اولیگوساکرائیڈز پانی میں آ جاتے ہیں۔
اسی طرح پھلیوں کو بھگونے سے ان میں لیکٹنز (Lectins)جو ایک قسم کا نباتی پروٹین ہے اور فائیٹیٹس (phytates) جو پودوں کے بیجوں میں پایا جانے والا فاسفورس کا اہم روپ ہے، کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ لیکٹنز اور فائیٹیٹس کو "اینٹی نیوٹریئنٹس" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فولاد اور زنک کے جذب ہونے میں رکاوٹ ڈالتے اور متلی اور معدے کی تکلیف پیدا کرتے ہیں۔خشک پھلیوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کی شیلف لائف بہت طویل ہوتی ہے۔تاہم انھیں خریدنے کے بعد ایک دو سال کے اندر استعمال کرنی چاہئیں۔ اس کے بعد ان کی کوالٹی کم ہو جاتی ہے۔
پھلیاں بھگونے کے مختلف طریقے ہیں۔ ہر طریقے میں پہلا قدم یہ ہے کہ پھلیوں کو ٹھنڈے پانی سے دھو کر صاف کر لیا جائے تاکہ کنکریاں، ٹہنیاں، اور پتیاں نکال دی جائیں۔رات بھر بھگونے کا طریقے میں پانی اور پھلیاں برتن میں ڈال کر پھلیوں کے اوپر دو انچ اضافی پانی ڈالتے اور اسے آٹھ سے بارہ گھنٹے فریج یا کھلی جگہ رکھتے ہیں۔
بھگونے کے جلد طریقے میں پھلیاں برتن میں ڈال کر انہیں پانی سے ڈھانپتے پھر اضافی دو انچ پانی ڈال کر تین منٹ تک اْبالتے ہیں۔ پھر چولہا بند کر انہیں ایک گھنٹہ بھگوتے ہیں۔ بھگونے کے بعد پانی پھینک دینا چاہیے تاکہ آپ وہ کمپاؤنڈ دوبارہ نہ جذب کر لیں جو پہلے نکالے گئے تھے۔ پھلیوں کو تازہ پانی سے دھو کر پکانے کے لیے نیا پانی استعمال کریں۔یاد رکھیں، اگر آپ خشک پھلیوں کو ککر یا برتن میں آہستہ آگ پر پکاتے ہیں، تو درجہ حرارت اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ لیکٹنز کو غیر فعال کر سکے۔
اگر آپ نے پہلے سے پھلیاں بھگونے کی منصوبہ بندی نہیں کی ، تو انھیں کھانے کے لیے اپنا بہترین منصوبہ ترک نہ کریں۔ پھلیاں پروٹین، فائبر، فولٹ، پوٹاشیم، آئرن اور صحت کو فائدہ پہنچانے والے اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ ماحول کے لیے بھی اچھی ہیںکیونکہ مٹی میں نائٹروجن کو ٹھیک کرتی ہیں۔
آپ خشک پھلیاں بھگوئے بغیر بھی پکا سکتے ہیں۔ آپ ان کے غذائی فوائد سے پھر بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،بس ان کو پکانے میں زیادہ وقت لگے گا۔یا پھر آپ ڈبہ بند پھلیاں استعمال کر لیجیے جو خشک پھلیوں کے برابر غذائیت رکھتی ہیں۔ تاہم ان پھلیوں میں سوڈیم میں زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے، ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ انہیں سوپ، اسٹو، سلاد یا دیگر پکوانوں میں استعمال کرنے سے پہلے ایک کٹوری میں نکال کر دھو لیں۔ اس دھونے کے عمل سے تقریباً 40 فیصد اضافی سوڈیم کم ہو جاتا ہے۔ ویسے کم سوڈیم والی ڈبہ بند پھلیاں بھی دستیاب ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: استعمال کر پانی میں جاتا ہے ہوتی ہے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔