تائیوان کے دانشوروں کی جا پانی وزیر اعظم کے غلط بیانات پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بیجنگ : جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے چین کے تائیوان کے حوالے سے غلط بیانات سے آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں میں آباد چینی شہریوں میں شدید غصہ دیکھا جا رہا ہے ۔ بدھ کے روز چینی میڈیا کے مطابق تائیوان کی چائنیز کلچر یونیورسٹی کے پرفیسر چھیو ای نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سانائے تاکائیچی کے ان بیانات سے پہلے ہی جاپانی کابینہ میں ” ایٹمی ہتھیاروں سے پاک تین اصول” میں ترمیم کرنے یا انہیں ترک کرنے پر غور کیا جارہا تھا ۔ صاف ظاہر ہے کہ سانائے تاکائیچی تائیوان کے امور کے بہانے چین اور جاپان کے درمیان اختلافات پیدا کررہی ہیں ۔تائیوان کی شہ ھسن یونیورسٹی کے پروفیسر یو زی شیانگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تائیوان کے باشندوں کی نظر میں سانائے تاکائیچی جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں اور جاپانی عسکریت پسندوں کے مفاد میں بول رہی ہیں اور ممکن ہے کہ اس کا نتیجہ تائیوان کو برداشت کرنا پڑے اس لیے تائیوان کے عوام کثیر تعداد میں سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات کے خلاف باہر نکلیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سانائے تاکائیچی تائیوان کے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔