سٹی 42: صدر مملکت ،وزیر اعظم اور وزیر داخلہ  نے  23 خوارج کو جہنم واصل کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین  پیش کیا ۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے باجوڑ اور بنوں میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ، انہوں  نے بھارتی پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے 23 دہشت گردوں کے خاتمے کو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی قرار دیا۔

صوبہ بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا سلسلہ تیزی سے جاری

صدر مملکت نے کہا باجوڑ میں خوارج سرغنہ سمیت متعدد دہشت گردوں کا مارا جانا امن دشمن عناصر کیلئے واضح پیغام ہے،بنوں میں ایک اور کارروائی میں بارہ خوارج کے انجام کو پہنچنے پر صدر زرداری نے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔صدر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں ملک میں امن کے قیام کیلئے ریاست کے عزم کی عکاس ہیں۔پاکستان کی سرزمین پر غیر ملکی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں،پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے:وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے   ضلع باجوڑ اور ضلع بنوں میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف دو مختلف کامیاب کاروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا  انہوں نے  ان آپریشنز میں فتنتہ الخوارج کے 23 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی  کی ۔

وزیر اعظم نے کہا عزم استحکام کے ویژن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں ،پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔

 مودی سرکار کو بڑا دھچکا,بھارتی شہریوں پر بغیر ویزا ایران میں داخلے پر پابندی عائد

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی  نے باجوڑ اور بنوں میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین   پیش کیا ، انہوں نے کہاسکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں نے 23 دہشتگردوں کو جہنم رسید کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کے دلیر سپوتوں کو سلام  پیش کرتے ہیں ۔  قوم کو سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جرات پر فخر ہے۔   خیبر پختونخوا میں فتنہ الہندوستان کے  مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہیں۔انشااللہ وہ دن دور نہیں جب پاک دھرتی سے فتنہ الہندوستان کا  مکمل صفایا ہو گا۔

پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب بحالی پروگرام جاری

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار