ایف سی بلوچستان نارتھ کے 68 ویں لیڈیز بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
کوئٹہ: (نیوزڈیسک) فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے 68ویں لیڈیز بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کوئٹہ میں ہوئی جس میں 89 خواتین تربیت کی تکمیل پر فورس میں باقاعدہ شامل ہو گئیں۔
تقریب کے آغاز پر مہمانِ خصوصی کور کمانڈر بلوچستان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ایف سی بلوچستان نارتھ میں شمولیت اختیار کرنے والی بلوچستان کی 89 خواتین بلوچستان اور پاکستان کا فخر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان خواتین کیلئے مثالی رول ماڈل بھی قرار دی گئیں۔
مہمانِ خصوصی نے کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والی تمام لیڈی سولجرز اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد دی، پریڈ میں قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی اور معزز شخصیات کی شرکت نے ایف سی اور عوام کے باہمی اعتماد کو مزید تقویت دی۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والی لیڈی سولجرز میں خصوصی انعامات تقسیم کیے گئے، مقامی بلوچ لیڈیز بیچ کی شمولیت ایف سی بلوچستان نارتھ میں مقامی خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز