کوئٹہ میں موبائل فون انٹرنیٹ ڈیٹا سروس کی بندش میں مزید 2 روز کا اضافہ، شہری مشکلات سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں موبائل فون انٹرنیٹ 3جی اور 4جی سروس ساتویں روز بھی معطل ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقت کے مطابق موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش میں 2 روز کا اضافہ کرتے ہوئے 18 نومبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مسلسل بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کی سفارش پر مزید توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل موبائل فون انٹرنیٹ سروس 10 نومبر سے 16 نومبر تک معطل رہی، تاہم ممکنہ خطرات کے باعث اب اسے مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں صارفین گزشتہ کئی روز سے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ
شہریوں نے اس طویل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آن لائن کاروبار کرنے والوں، فوڈ ڈلیوری رائیڈرز، طلبا اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی عدم دستیابی سے ان کے کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیٹ سروس بلوچستان حمزہ شفقت کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروس بلوچستان کوئٹہ موبائل فون انٹرنیٹ انٹرنیٹ سروس
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز