ایف بی آر میں بھونچال، 80 سینئر عہدیداروں کے یکا یک ملک گیر تقرر و تبادلے
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اعلیٰ سطح پر 80 سینئر افسران کے ملک گیر تبادلے اور تقرریوں سے ادارے میں ہلچل مچ گئی۔ منگل، 11 نومبر کو جاری ہونے والے احکامات کے تحت مختلف ریجنز میں تعینات بی ایس 19، 20 اور 21 کے افسران کو فوری طور پر نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق تبادلوں کا یہ سلسلہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور سمیت ملک کے بڑے ٹیکس ریجنز اور کسٹم فارمیشنز تک پھیلا ہوا ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرلز، کلیکٹرز، کمشنرز اور ممبران کے عہدے تبدیل کیے گئے ہیں۔
ایف بی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران کو چارج سنبھالنے کے بعد اپنی رپورٹ فوری طور پر ہیڈکوارٹر ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق اس بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کا مقصد کارکردگی میں بہتری اور ادارے میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم اچانک ہونے والے ان تبادلوں نے ایف بی آر کے اندر ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔