بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کے لیے فضائی کرایوں میں غیر معمولی اور امتیازی اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرار داد منظور کرلی۔

اراکینِ اسمبلی نے کہا کہ قومی اور نجی فضائی کمپنیاں بلوچستان کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی کر رہی ہیں جہاں کوئٹہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے کرایے ملک کے دیگر شہروں کی نسبت 3 سے 4 گنا زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں جس نے نہ صرف مسافروں کو ناقابل برداشت مالی بوجھ تلے دبا دیا ہے بلکہ بلوچستان کے باقی ملک سے تجارتی و انتظامی روابط بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ رؤف نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے کراچی کا یکطرفہ کرایہ عام ایام میں 43 سے 45 ہزار روپے جبکہ بعض اوقات 60 ہزار روپے تک وصول کیا جا رہا ہے۔

شاہدہ رؤف نے کہا کہ اسی طرح کوئٹہ سے اسلام آباد تک کا کرایہ 70 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں کراچی سے لاہور یا اسلام آباد تک کرائے صرف 15 سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہیں جو واضح امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز شاہراہیں بند رہتی ہیں، ریل سروس معطل ہوتی ہے، ایسے میں عوام کے لیے فضائی سفر ہی واحد قابل اعتماد آپشن ہے مگر یہی سب سے مہنگا کر دیا گیا ہے۔

شاہدہ رؤف نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر وفاقی حکومت، وزارت ہوا بازی، پی آئی اے اور نجی فضائی کمپنیوں سے رابطہ کرے اور کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر ہوائی اڈوں سے پروازوں کے کرایے ملک بھر کے برابر کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ پی آئی اے اور نجی کمپنیوں کے ذمہ داران کو ایوان میں بلا کر وضاحت لی جائے اور اس مقصد کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے۔

پارلیمانی سیکریٹری مینا مجید نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فضائی کمپنیوں کا رویہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ امتیازی ہے اس لیے نہ صرف کرایوں میں کمی بلکہ کوئٹہ سے تربت اور گوادر کے لیے پروازوں کا اجرا بھی قرار داد میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرایوں میں ہر چند گھنٹوں بعد ہونے والا اضافہ بھی عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی رکن فرح عظیم شاہ نے قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ نجی ایئر لائنز کوئٹہ سے پروازیں نہیں چلا رہیں اور جو پروازیں ہیں وہ نہایت مہنگی اور اکثر اچانک منسوخ کر دی جاتی ہیں۔

زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ جہاں اسلام آباد، کراچی یا پشاور کے لیے باقی شہروں سے ٹکٹ کی قیمت 20 ہزار کے قریب ہے وہیں یہی کرایہ کوئٹہ سے 70 تا 80 ہزار روپے سے کم نہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر کرایوں میں کمی نہ کی گئی تو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

پارلیمانی سیکریٹری برکت رند نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سے تربت کے لیے کم از کم ہفتہ وار پرواز شروع کی جائے۔

صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ صرف ایئر لائنز کے حکام نہیں بلکہ وزارت ہوا بازی کو بھی بلا کر جواب طلبی کی جائے اور اس سلسلے میں ایوان کی نمائندگی پر مشتمل کمیٹی اسلام آباد جا کر براہ راست بات کرے۔

ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے بھی کرایوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ایوان سے مشترکہ مؤقف اپنانے کی اپیل کی۔

بی این پی عوامی کے میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ صرف قرار دادیں منظور کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اصل ضرورت ان پر عملی اقدام کرنے کی ہے۔

ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس قرارداد کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ عام آدمی کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ وہ پہلے ہی وزیراعظم اور وزیر دفاع سے اس حوالے سے بات کر چکے ہیں تاہم آئندہ اقدام کے طور پر وہ تمام پارلیمانی قیادت کو ساتھ لے کر اسلام آباد جائیں گے تاکہ وزیرِ اعظم اور وزیر ہوا بازی سے براہ راست ملاقات کرکے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ کوئٹہ سے دبئی کا کرایہ اندرونِ ملک سفر سے سستا پڑتا ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نجی کمپنیوں کی نگرانی میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس قرارداد کو مثال بنا کر وفاق سے سخت مؤقف اپنائیں گے اور ایوان کی مکمل نمائندگی کے ساتھ اسلام آباد جا کر اس امتیازی طرزِ عمل کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایئر فیئر بلوچستان اسمبلی کوئٹہ کوئٹہ فضائی کرایے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئر فیئر بلوچستان اسمبلی کوئٹہ بلوچستان کے ہوئے کہا کہ کہ کوئٹہ سے اسلام آباد کرایوں میں ہزار روپے نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ عوام کے کے لیے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن