کوئٹہ کے ہنر مندوں کا کارنامہ: کم گیس سے چلنے والے سستے گیزر سخت سردی میں نعمت
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے اور اس کہاوت کو کوئٹہ کے ہنر مندوں نے سچ کر دکھایا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں سردیوں کی آمد، موسم کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مزاج بھی بدلنے لگے
کوئٹہ کی وادیوں میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گیزر ناکارہ ہو جاتے ہیں اور عوام کو ٹھنڈے اور خون جما دینے والے پانی کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
ایسے میں کوئٹہ کے کاریگروں نے عوام کی یہ مشکل حل کر دی ہے۔ ٹین کی چادر کی مدد سے تیار کردہ ان گیزروں کو کچھ اس انداز میں بنایا جاتا ہے کہ یہ کم گیس پر بھی چل جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ: شدید سردی کے باعث گیس پائپ لائن منجمد
مختلف کمپنیوں کے گیزر 30 سے 50 ہزار روپے کے درمیان دستیاب ہوتے ہیں لیکن دیسی ساختہ گیزر 3 سے 5 ہزار روپے میں مل جاتے ہیں جو نہ صرف قیمت میں کم بلکہ پائیداری میں بھی بہترین ہیں۔
دیسی ساختہ گیزر بنانے والوں کا کہنا ہے کہ جہاں یہ گیزر کم گیس کے مسئلے کو حل کرتا ہے وہیں اس کی قیمت بھی انتہائی مناسب ہے جو آرام سے ایک چھوٹے خاندان کی ضرورت کو پورا کردیتا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کا روایتی پکوان لاندی گھروں سے نکل کر ہوٹلوں تک جا پہنچا
مناسب قیمت کے باعث بھی یہ گیزر شہریوں کی اولین ترجیح ہے۔ اس کو بنانے میں صرف اسٹیل کی چادر استعمال ہوتی ہے جو نہ صرف وزن میں ہلکی بلکہ پائیداری میں بھی بہترین ہوتی ہے اس لیے کوئٹہ کے زیادہ تر شہری اس گیزر کو پسند کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دیسی ساختہ گیزر سردی کا مقابلہ کرنے والے گیزر شدید سردی کوئٹہ کے دیسی گیزر گیزر ناکارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دیسی ساختہ گیزر سردی کا مقابلہ کرنے والے گیزر کوئٹہ کے دیسی گیزر گیزر ناکارہ کوئٹہ کے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر