پاکستان کی میزبانی میں عالمی خلائی کانفرنس 2025 کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پاکستان نے عالمی خلائی کانفرنس 2025 کی میزبانی حاصل کرکے سائنسی میدان کی ترقی میں اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔
پاکستان عالمی سطح پر سائنسی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سب سے بڑی خلائی کانفرنس انٹرنیشنل کانفرنس آن اپلیکیشنز آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ICAST) کا اسلام آباد میں شاندار انعقاد ہوگیا ہے۔
عالمی کانفرنس سپارکو اور اسلام آباد اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے 18 تا 20 نومبر تک جاری رہے گی ۔ کانفرنس کا مقصد عالمی چیلنجز کے حل میں خلائی ٹیکنالوجی کے بڑھتے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
ایونٹ میں 25 ممالک کے 70 سے زائد مندوبین اور 2 ہزار سے زیادہ شرکاء شریک ہونگے جبکہ اس میں متعدد معاہدے متوقع ہیں۔
بین الاقوامی مندوبین کی شرکت سے پاکستان کے خلائی شعبہ میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات روشن ہیں۔ کانفرنس میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور اے آئی ایپلیکیشنز پر جامع تبادلہ خیال ہوگا۔
مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی اور خلائی ٹیکنالوجی کے تبادلے کیلئے جامع حکمتِ عملی تشکیل دی جائے گی۔ عالمی مباحثے اور شراکت داریاں پاکستان کی سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔
رکن ممالک کا سائنسی شعبہ جات میں تعاون اور ترقیاتی منصوبے پاکستان کے خلائی شعبے کی استعداد بڑھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔