پروازوں کی منسوخی: ٹرمپ کی ائر ٹریفک کنٹرولرز کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ تمام ائر ٹریفک کنٹرولرز فوراً اپنے فرائض پر واپس آئیں، ورنہ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا ہے جب امریکی تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہاکہ ائر ٹریفک کنٹرولرز فوراً کام پر واپس نہ آئے تو ان کی تنخواہیں کم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو ملازمین شٹ ڈاؤن کے دوران مسلسل کام کرتے رہے، انہیں 10 ہزار ڈالر بونس دیا جائے گا، جبکہ جو غیر حاضر رہے ان کی استعفے قبول کر لیے جائیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 41 دن سے جاری شٹ ڈاؤن کے باعث تقریباً 13 ہزار ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور 50 ہزار ٹرانسپورٹ سیکورٹی ایجنٹس بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں۔ پیر کے روز 2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ جبکہ 5 ہزار سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شکاگو میں برفانی طوفان نے صورتحال مزید خراب کر دی۔ ملک کے بڑے 30 ائرپورٹس میں سے کئی میں 20 سے 40 فیصد تک عملہ غیر حاضر ہے۔ دوسری جانب ائرلائن کمپنیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے سینیٹ سے منظور شدہ بل کو جلد از جلد نافذ کیا جائے تاکہ ہوائی سفر معمول پر آسکے۔ امریکن ائرلائنز کے سی ای او نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسافروں اور ملازمین کو بہتر سہولیات ملنا ان کا حق ہے۔ اس بیان کے بعد امریکی ائرلائنز کے شیئرز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریفک کنٹرولرز شٹ ڈاو ن
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔