بی بی سی کو ایڈیٹنگ مہنگی پڑ گئی، ٹرمپ کی ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کی متنازع ایڈیٹنگ پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی دے دی ہے۔
ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے مطابق، صدر نے بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے ادارے کو جمعے تک دستاویزی فلم ہٹانے اور تحریری معافی کا وقت دیا ہے۔
ٹرمپ کے وکیل نے بی بی سی کو خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے نے جھوٹے، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات واپس نہ لیے تو اسے ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب بی بی سی کی جانب سے نشر کی گئی ایک دستاویزی فلم میں 6 جنوری 2021 کو ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو ایڈیٹنگ کے ذریعے اس طرح جوڑا گیا کہ ایسا لگا جیسے وہ اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل کی جانب مارچ اور شدید مزاحمت کی ترغیب دے رہے ہوں۔
اس تنازع کے بعد بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور سی ای او مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ ادارے کے چیئرمین نے بھی صدر ٹرمپ سے معذرت کی ہے۔
ایڈیٹ شدہ پروگرام گزشتہ سال امریکی انتخابات سے صرف ایک ہفتہ قبل نشر کیا گیا تھا، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز