ظہران ممدانی کی فتح ٹرمپ کی شکست
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
آج کی دنیا کے تقریباً دو سو کے قریب ممالک میں امریکا ہی بلاشرکت غیرے عالمی سطح پر واحد سپر پاور ہے۔ امریکی صدر دنیا کا سب سے طاقتور صدر کہلاتا ہے اور عملاً اس کی ذات میں تمام اختیارات مرتکز ہیں جو اسے قوت فراہم کرتے ہیں جسے امریکی صدر نہ صرف اندرون وطن بلکہ بیرون ملک بھی جب اور جس وقت چاہے اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے اور پوری دنیا کے نظام پر حاوی نظر آتا ہے۔
آج کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دور اقتدار میں اپنی طاقت و اختیارات کو پوری شد و مد کے ساتھ دنیا بھر میں استعمال کر کے اپنی حاکمیت اور عالمی بالادستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے سے لے کر چین و بھارت پر تجارتی ٹیرف لگانے تک اور ایران اسرائیل جنگ کے خاتمے سے لے کر فلسطین اسرائیل امن معاہدے تک کشیدگی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا جس کا وہ خود بھی برملا مختلف مواقعوں پر کھلا اظہار کرتے رہتے ہیں اور پاکستان میں حکومتی سطح پر پاک بھارت جنگ رکوانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف و تحسین کی جاتی ہے اور مختلف عالمی فورم پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف امریکی صدر کے تنازعات کے حل میں ان کے عالمی کردار کی توصیف کرنے کے پہلو بہ پہلو امن کے نوبل انعام کے لیے امریکی صدر کی نامزدگی کا برملا تذکرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حیرت انگیز عالمی کردار اور طاقت و غیر معمولی اختیارات کے استعمال کے باوجود اپنے ہی ملک کے ایک اہم ترین شہر نیویارک میں میئر کے انتخاب میں اپنے پسندیدہ اور حمایت یافتہ امیدوار کو اپنی تمام تر ریاستی طاقت، اختیارات اور وسائل کے استعمال کے باوجود کامیاب کرانے میں ناکام رہے اور ان کے تجربے، مشاہدے اور عمر سے کئی درجے کم مخالف امیدوار ظہران ممدانی اپنی نوجوانی کے جوش، جنون، نظریات، فلسفے، جذبے اور عوامی خدمت کے وعدوں اور دعوؤں کی سچائی کی طاقت اور عوام پر اپنے یقین کی قوت اور نیویارک کے رنگ نسل، ذات، مذہب کی تفریق سے بالاتر شہریوں نے نوجوان ممدانی پر بھرپور اعتماد کرکے اس کے سر پر فتح کا تاج سجا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
نیویارک کی میئرشپ کے انتخابات نے ثابت کر دیا کہ اصل حکمرانی ریاستی طاقت اور اختیارات و وسائل کے استعمال کی نہیں بلکہ آئین و قانون اور عوام کی حمایت کی ہوتی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکا ہی اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے، معصوم، بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں پر دو سال تک ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والا، ان پر آگ و آہن کی برسات کرنے والا اور غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شے اور حمایت سے غزہ میں خونی کھیل کھیلا۔ نوجوان ممدانی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران کھل کر نیتن یاہو کے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت اور مخالفت کی۔ اس نے اس نظریے اور فلسفے کا پرچار کیا کہ وہ یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ اسرائیل کی پالیسیوں کا مخالف ہے جس نے غزہ کو لہولہان کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ممدانی کو کامیاب کرانے میں نیویارک کے یہودیوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور ثابت کر دیا کہ امریکا میں اسلام مخالف پروپیگنڈے اور اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
ایک مسلمان امریکی شہری جو یوگنڈا میں پیدا ہوا، اس کے والد بھارتی گجرات کے مسلمان شہری ہیں جب کہ والدہ دہلی کے ہندو خاندان کی خاتون ہیں نے اپنی مسلم شناخت کو سامنے رکھا اور سسٹم کے اندر رہتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت، اختیارات اور وسائل کو حیران کن شکست سے دوچار کرکے ثابت کیا کہ قانون زندہ ہو، سسٹم مضبوط ہو، انصاف کی فراہمی ہو اور عدلیہ ریاستی دباؤ کے آگے سینہ سپر ہو تو کوئی طاقت سچائی اور زمینی حقائق کو بلڈوز نہیں کر سکتی۔
ممدانی سے قبل سیاہ فام مسلمان بارک اوباما بھی حیران کن طور پر کامیابی حاصل کرکے امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی جیت کے لیے گھر گھر مہم چلائی تھی جب کہ ظہران ممدانی نے آج کے دور کے سب سے طاقتور ذریعے یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا، انھیں مسائل کے حل کا یقین دلایا، روٹی، کپڑا اور مکان کا دل فریب نعرہ دیا۔ یہ نعرہ پی پی پی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو دیا تھا جس کا آج تک پیپلز پارٹی فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
یہ پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں کونسلر کے انتخاب سے لے کر وزیر اعظم اور صدر کے انتخاب تک طاقت اختیارات اور وسائل کا استعمال کرکے نتائج کو من مانے انداز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو عوام کی بات کرتا ہے اسے پھانسی، جلاوطنی اور جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ یہاں دھاندلی الیکشن کی اور نظریہ ضرورت انصاف کی پہچان ہے پھر بھلا پاکستان میں کوئی ممدانی کیسے جیت سکتا ہے۔ 78 سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے اور نہ جانے کب تک ہوتا رہے گا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور کر دیا
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔