Express News:
2026-06-03@02:28:26 GMT

ظہران ممدانی کی فتح ٹرمپ کی شکست

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

آج کی دنیا کے تقریباً دو سو کے قریب ممالک میں امریکا ہی بلاشرکت غیرے عالمی سطح پر واحد سپر پاور ہے۔ امریکی صدر دنیا کا سب سے طاقتور صدر کہلاتا ہے اور عملاً اس کی ذات میں تمام اختیارات مرتکز ہیں جو اسے قوت فراہم کرتے ہیں جسے امریکی صدر نہ صرف اندرون وطن بلکہ بیرون ملک بھی جب اور جس وقت چاہے اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے اور پوری دنیا کے نظام پر حاوی نظر آتا ہے۔

آج کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دور اقتدار میں اپنی طاقت و اختیارات کو پوری شد و مد کے ساتھ دنیا بھر میں استعمال کر کے اپنی حاکمیت اور عالمی بالادستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے سے لے کر چین و بھارت پر تجارتی ٹیرف لگانے تک اور ایران اسرائیل جنگ کے خاتمے سے لے کر فلسطین اسرائیل امن معاہدے تک کشیدگی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا جس کا وہ خود بھی برملا مختلف مواقعوں پر کھلا اظہار کرتے رہتے ہیں اور پاکستان میں حکومتی سطح پر پاک بھارت جنگ رکوانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف و تحسین کی جاتی ہے اور مختلف عالمی فورم پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف امریکی صدر کے تنازعات کے حل میں ان کے عالمی کردار کی توصیف کرنے کے پہلو بہ پہلو امن کے نوبل انعام کے لیے امریکی صدر کی نامزدگی کا برملا تذکرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حیرت انگیز عالمی کردار اور طاقت و غیر معمولی اختیارات کے استعمال کے باوجود اپنے ہی ملک کے ایک اہم ترین شہر نیویارک میں میئر کے انتخاب میں اپنے پسندیدہ اور حمایت یافتہ امیدوار کو اپنی تمام تر ریاستی طاقت، اختیارات اور وسائل کے استعمال کے باوجود کامیاب کرانے میں ناکام رہے اور ان کے تجربے، مشاہدے اور عمر سے کئی درجے کم مخالف امیدوار ظہران ممدانی اپنی نوجوانی کے جوش، جنون، نظریات، فلسفے، جذبے اور عوامی خدمت کے وعدوں اور دعوؤں کی سچائی کی طاقت اور عوام پر اپنے یقین کی قوت اور نیویارک کے رنگ نسل، ذات، مذہب کی تفریق سے بالاتر شہریوں نے نوجوان ممدانی پر بھرپور اعتماد کرکے اس کے سر پر فتح کا تاج سجا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

نیویارک کی میئرشپ کے انتخابات نے ثابت کر دیا کہ اصل حکمرانی ریاستی طاقت اور اختیارات و وسائل کے استعمال کی نہیں بلکہ آئین و قانون اور عوام کی حمایت کی ہوتی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکا ہی اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے، معصوم، بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں پر دو سال تک ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والا، ان پر آگ و آہن کی برسات کرنے والا اور غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شے اور حمایت سے غزہ میں خونی کھیل کھیلا۔ نوجوان ممدانی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران کھل کر نیتن یاہو کے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت اور مخالفت کی۔ اس نے اس نظریے اور فلسفے کا پرچار کیا کہ وہ یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ اسرائیل کی پالیسیوں کا مخالف ہے جس نے غزہ کو لہولہان کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ممدانی کو کامیاب کرانے میں نیویارک کے یہودیوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور ثابت کر دیا کہ امریکا میں اسلام مخالف پروپیگنڈے اور اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

 ایک مسلمان امریکی شہری جو یوگنڈا میں پیدا ہوا، اس کے والد بھارتی گجرات کے مسلمان شہری ہیں جب کہ والدہ دہلی کے ہندو خاندان کی خاتون ہیں نے اپنی مسلم شناخت کو سامنے رکھا اور سسٹم کے اندر رہتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت، اختیارات اور وسائل کو حیران کن شکست سے دوچار کرکے ثابت کیا کہ قانون زندہ ہو، سسٹم مضبوط ہو، انصاف کی فراہمی ہو اور عدلیہ ریاستی دباؤ کے آگے سینہ سپر ہو تو کوئی طاقت سچائی اور زمینی حقائق کو بلڈوز نہیں کر سکتی۔

ممدانی سے قبل سیاہ فام مسلمان بارک اوباما بھی حیران کن طور پر کامیابی حاصل کرکے امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی جیت کے لیے گھر گھر مہم چلائی تھی جب کہ ظہران ممدانی نے آج کے دور کے سب سے طاقتور ذریعے یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا، انھیں مسائل کے حل کا یقین دلایا، روٹی، کپڑا اور مکان کا دل فریب نعرہ دیا۔ یہ نعرہ پی پی پی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو دیا تھا جس کا آج تک پیپلز پارٹی فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

یہ پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں کونسلر کے انتخاب سے لے کر وزیر اعظم اور صدر کے انتخاب تک طاقت اختیارات اور وسائل کا استعمال کرکے نتائج کو من مانے انداز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو عوام کی بات کرتا ہے اسے پھانسی، جلاوطنی اور جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ یہاں دھاندلی الیکشن کی اور نظریہ ضرورت انصاف کی پہچان ہے پھر بھلا پاکستان میں کوئی ممدانی کیسے جیت سکتا ہے۔ 78 سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے اور نہ جانے کب تک ہوتا رہے گا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور کر دیا

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟